تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 189
تحریک جدید- ایک ابھی تحریک۔۔۔۔جلد اول - الہی خطبہ جمعہ فرمودہ 15 نومبر 1935ء تیار کر لیتے ہیں دوسرے ثواب نیت کا ہوتا ہے۔کسی کو کیا پتہ ہے کہ اگر آج وہ غریب ہے تو کل امیر نہیں ہو جائے گا؟ اگر وہ خدا سے اقرار کرے کہ حالت بدل جانے پر بھی اسی حالت پر قائم رہے گا تو کون کہہ سکتا ہے کہ ایسے شخص کو اس کی نیت کا ثواب نہیں ملے گا بلکہ اس میں فاقہ کش بھی شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ بعض اوقات انہیں بھی صدقہ میں دو کھانے مل جاتے ہیں اور اگر وہ ایک کی قربانی کر دیں تو یہ قربانی امیر سے زیادہ سمجھی جائے گی۔امیر کو روز میسر تھا مگر فاقہ کش کو اتفاق سے مل گیا اور اس نے خدا کے لئے اپنی خواہش کی قربانی کر دی تو امیر غریب سب کو اس میں شامل ہونا چاہئے۔ہاں مہمان کے لئے ایک دوروز تک ایک سے زیادہ کھانے تیار کرانے کی اجازت ہے مگر جس نے کئی ماہ رہنا ہو وہ مہمان نہیں سمجھا جا سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمانی تین روز کی ہے اور اگر مہمان بے تکلف ہو تو پسندیدہ امر یہی ہے کہ اس کے لئے بھی ایک ہی کھانا ہو۔ہاں جس مہمان سے بے تکلفی نہیں اس کے لئے ایک سے زیادہ سالن بھی تیار کئے جاسکتے ہیں کیونکہ واقف مہمانوں کے متعلق تو انسان جانتا ہے کہ وہ کیا چیز پسند اور کیا نا پسند کرتے ہیں؟ مگر نئے مہمانوں کے متعلق ایسا علم نہیں ہوتا اور بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بعض چیزیں نہیں کھاتے مثلاً میں جب سے پیدا ہوا ہوں آج تک حلوا کر کبھی خوشی سے نہیں کھایا۔ہاں بعض جگہ مجھے مجبوراً کھانا پڑا اور میں نے کھایا مگر اس حالت میں کہ اندر سے معدہ اس کو رد کرتا چلا جاتا تھا اور میں بامر مجبوری کھاتا جاتا تھا۔پس بعض دفعہ اس خیال سے کہ ممکن ہے مہمان کو کوئی چیز پسند نہ ہو یا اسے کوئی بیماری ہو اور اس وجہ سے وہ کوئی خاص چیز استعمال نہ کر سکتا ہو اگر دوسرا کھانا پکا لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔مثلاً مہمان کو بواسیر ہو تو تم نے بینگن پکائے تو ان کے کھانے سے اسے تکلیف ہوگی اسی طرح مہمان کے متعلق یہ بھی ہدایت ہے کہ اگر وہ سمجھتا ہے کہ میزبان کی دل شکنی نہ ہوگی تو وہ ایک کھانا کھائے۔اس سال مجھے بھی بعض ایسی دعوتوں میں شامل ہونا پڑا جن میں ایک سے زیادہ کھانے پکائے گئے تھے مگر میں نے ایک ہی کھایا۔پس مہمان کو عام صورتوں میں ایک ہی کھانے پر کفایت کرنی چاہئے لیکن اگر میزبان کی دل شکنی کا ڈر ہو یا غلط فہمی پیدا ہونے کا خوف ہو یا ادب اور احترام چاہتے ہوں کہ میزبان کی پیش کردہ شے کو استعمال کیا جائے تو پھر ایک سے زیادہ کھانے کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔مثلا کسی غیر احمدی کے ہاں احمدی کی دعوت ہو وہ اس نکتہ کو سمجھ ہی نہیں سکتا جو میں نے پیش کیا ہے۔پس اس کی دل شکنی سے بچنے کے لئے دوسری چیز بھی کھالی جائے تو کوئی حرج نہیں۔اسی سال ایک غیر احمدی نے میری دعوت کی میں نے ایک کھانے پر کفایت کی ، کھانے کے دوران میں وہ ایک چیز لائے اور کہا کہ یہ تو میں نے خاص طور پر آپ کے 189