تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 181

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 15 نومبر 1935ء آواز کو سنا ہے اور جب وہ تم پر اعتراض کرتے ہیں تو ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم تو جو کچھ ہیں ، ہیں ہی۔تم کیوں ایسا کرتے ہو؟ پس ہمارے لئے شرم کا مقام ہے اگر ہم دشمن کو ایسا موقع دیں جو ہماری سچائی پر حرف لانے والا ہو اس لئے قانون اور شریعت کے دیئے ہوئے حقوق کا استعمال کرو مگر اخلاق کو نہ چھوڑو کیونکہ شدید اشتعال کے وقت ہی اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھانے کا موقع ہوتا ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ اگر دشمن فساد کر دے تو یا درکھو کہ مومن کی قربانی کا مقابلہ اور کوئی شخص نہیں۔کر سکتا۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بیسیوں جنگیں کرنی پڑیں بلکہ سینکڑوں جنگیں پیش آئیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک مسلمانوں نے اس وقت کی معلوم دُنیا قریب قریباً ساری فتح کر لی تھی اور اس کے لئے انہیں سینکڑوں لڑائیاں لڑنی پڑیں مگر مسلمانوں کو حقیقی شکست کبھی نہیں ہوئی۔بعض اوقات شکست نما صورتیں پیدا ہوئیں مگر حقیقی شکست کبھی نہیں ہوئی۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دو واقعات ایسے ہیں ایک اُحد کا اور ایک حسنین کا جب بظاہر مسلمان میدان سے ہے مگر یہ بھی نہیں ہوا کہ مسلمان میدان سے ہٹ کر بھاگ گئے ہوں اللہ ماشاء اللہ سوائے ایک دو کمز ور طبیعت لوگوں کے یا ان لوگوں کے جو پچھلے لوگوں کو حالات کی خبر دینا چاہتے تھے۔اُحد کا مقام مدینہ سے نزدیک تھا مگر اُحد کے موقع پر بھی معلوم ہوتا ہے کہ صرف چند آدمی مدینہ میں پہنچے مگر ممکن ہے وہ سب کے سب خبر دینے ہی گئے ہوں ورنہ جب کبھی مسلمانوں کے قدم اکھڑے وہ میدان میں ہی ادھر اُدھر رہے بھاگے نہیں۔حنین کے موقع پر بھی صحابہ کے قدم اکھڑے ہیں تو ارادہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ اس جنگ میں دو ہزار کے قریب کا فر بھی شریک ہو گئے تھے اور جب وہ بھاگے تو ان سے ڈر کر صحابہ کے گھوڑے بھی بھاگ پڑے۔ایک صحابی کا بیان ہے کہ ہم سواریوں کی باگیں انہیں روکنے کے لئے اس قدر زور سے کھینچتے تھے کہ ان کے منہ کمر سے آ لگتے تھے مگر جب باگیں ڈھیلی کرتے تو وہ بھاگ اٹھتے۔یہ صحابہ کا دوڑنا نہیں کیونکہ سپاہی کا دوڑنا اسے کہتے ہیں کہ میدان سے گھوڑا بھاگے اور وہ اسے تیز کرنے کے لئے اور مارے۔صحابہ نے ایسا نہیں کیا بلکہ بعض تو سواریوں سے اتر کر پیدل ہی واپس لوٹ پڑے اس لئے یہ شکست نہیں کہلا سکتی مگر جو کچھ بھی ہو صرف یہ دو واقعات ہیں جنہیں شکست کے مشابہ کہا جاسکتا ہے مگر دونوں مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ کچھ اور صحابہ کھڑے رہے اور باقی اب بھی میدان سے ہٹ کر چلے نہیں گئے۔پس یہ بھی نہیں ہوا کہ مسلمان چلے 181