تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 178
خطبہ جمعہ فرمود : 15 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کھول سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں قانون کے احترام کی تعلیم دی ہے اس پر ہمیشہ دشمن اعتراض کرتا چلا آیا ہے کہ اس طرح آپ نے اپنی جماعت کو دائمی غلامی پر رضا مند رہنے کی تعلیم دی ہے۔آپ کے بعد حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بھی ہمیں یہی تعلیم دیتے رہے اور اب میں بھی ہمیشہ یہی کہتا رہتا ہوں اور دشمن اپنے اعتراض میں ترقی کر رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اب ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ دشمن پر ثابت کر دیں کہ بغیر قانون شکنی کے بھی ترقی ہوسکتی ہے بلکہ حقیقی ترقی صرف اسی طرح ہو سکتی ہے۔ایسے موقع کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کر دینا حماقت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ایک موقع دیا ہے کہ ہم بتا دیں کہ قرآن کریم اور اسلام کی تعلیم مکمل ہے اور اس سے انسان کی سب ضرورتیں پوری ہو سکتی ہیں اور اگر ہم اس اصل کو چھوڑ دیں تو یہ ہمارا کھلا اعتراف شکست ہوگا کیونکہ ہم دنیا کو اپنے عمل سے یہ بتائیں گے کہ جب ہم پر مصیبت آئی تو ہم نے تسلیم کر لیا کہ بغیر قانون شکنی کے ہماری فتح نہیں ہو سکتی۔اس موقع پر ہمیں یہ ثابت کر دینا چاہئے کہ قرآن کریم نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو اس کی تشریح فرمائی ہے وہی صحیح طریق عمل اور وہی کامیابی کی کلید ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہماری طرف سے قانون شکنی کی کوئی صورت نہ ہو۔مثلاً آج کی پریڈ میں میں نے دیکھا کہ اور تو سب لوگوں کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں لیکن ایک شخص کے ہاتھ میں کلہاڑی کی قسم کا کوئی ہتھیار تھا کل ہی اخبارات میں اعلان ہوا ہے کہ کلہاڑیاں لے کر چلنا پھرنا حکومت نے خلاف قانون قرار دے دیا ہے، یوں تو کلہاڑیاں وغیرہ لوگ لکڑیاں پھاڑنے کے لئے گھروں میں رکھتے ہی ہیں لیکن بعض قسم کی کلہاڑیاں رکھنا یا ان کی نمائش کرنا قانون کے خلاف ہے مجھے نہیں معلوم کہ یہ کلہاڑی جو اس دوست کے پاس تھی قانون کی زد میں آتی ہے یا نہیں لیکن مومن کو مواقع التہم سے بچنا چاہئے تا دشمن اس کے افعال سے جماعت کو بدنام نہ کر سکے اس کلہاڑی کے متعلق تو میں نے اسی وقت حکم دے دیا تھا کہ فوراً اس شخص سے لے لی جائے مگر آئندہ بھی کوئی شخص ایسی غلطی کر سکتا ہے اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی فعل ایسا نہ کیا جائے جو قانون شکنی کی حد میں آتا ہو اور قانون کے اندر رہ کر دشمن کو دکھا دیا جائے کہ قرآن کریم کی تعلیم ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریح انسان کو کامیابی سے محروم نہیں کرتی بلکہ وہی حقیقی کامیابی کی کلید ہے۔دوسری نصیحت میں یہ کرتا ہوں کہ جب طبائع میں جوش ہو تو لوگ اخلاق کو بھول جاتے ہیں حالانکہ اخلاق دکھانے کا وقت وہی ہوتا ہے جب آدمی ٹھنڈے دل کے ساتھ گھر میں بیٹھا ہو تو سوائے پاگل کے کون ہے جو دوسرے سے بدخلقی سے پیش آئے ؟ برے سے برا آدمی بھی کبھی ایسا نہیں کرتا کہ آرام سے اور 178