تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 172
خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول ہو اس لئے چاہئے کہ میری طرح انصاف کرو۔پس یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اس نے دونوں کو تنبیہ کی ہے اگر وہ اس سے فائدہ اٹھا لیں تو بہتر ہے ورنہ خدا کا ہاتھ بہت وسیع ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے ان مخالف حالات کو جو ہمارے نقصان کے لئے پیدا ہورہے تھے بدلنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ہماری قربانیاں کچھ نہیں ہیں اس لئے میں جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ آئندہ خطبات میں میں پھر سکیم کی وضاحت کروں گا اور اسے چاہئے کہ مزید قربانیوں کے لئے تیار رہے اور اب یہ خیال دل سے نکال دے کہ ہم کسی جگہ ٹھہریں گے۔تین سال تو پہلا قدم ہے بعض لوگوں نے مجھے کہا ہے کہ اس تحریک کو اب بند کر دیا جائے کیونکہ چندوں پر برا اثر پڑتا ہے لیکن جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کمزوری دکھانے والا یا ٹھہر نے والا خدا تعالیٰ کی راہ پر چلنے کے قابل نہیں۔میں نے آج تک کسی کو جا کر نہیں کہا کہ آؤ اور میری بیعت کرو بلکہ میرے سامنے اگر کوئی کسی کو ایسا کہے تو میں اسے روکتا ہوں تا وہی آگے آئے جو خود جان دینے کو تیار ہو اس لئے مجھے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ تم نے ہمیں کس مصیبت میں پھنسا دیا؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی لکھا ہے کہ میرا رستہ پھولوں کی پیج کا نہیں بلکہ پر خار ہے جو ڈرتا ہے وہ آگے نہ آئے۔پس قربانیوں کے مطالبات اب زیادہ ہوں گے کم نہیں۔جو خیال کرتا ہے کہ اب سیال ختم ہو گیا یہ بھی ختم ہو جانی چاہئیں اس کے اندر ایمان نہیں۔میرے ساتھ اب وہی چلیں گے جو یہ مستقل ارادہ رکھتے ہوں گے کہ ہم نے اب سانس نہیں لینا۔اب ہم خدا کے قدموں میں ہی مریں گے اور جان دیں گے۔جب تک عشق کی وہ گولی نہ کھائی جائے جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں پہنچا دے اس وقت تک کوئی زندگی نہیں۔جو میرے ساتھ نہیں آتا اس پر کوئی افسوس نہیں۔اگر تم سب کے سب بھی مجھے چھوڑ دو تب بھی خدا غیب سے سامان پیدا کر دے گا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ جو بات خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہی اور جس کا نقشہ اس نے مجھے سمجھا دیا ہے وہ نہ ہو۔وہ ضرور ہو کر رہے گی خواہ دوست، دشمن سب مجھے چھوڑ جائیں۔خدا خود آسمان سے اُترے گا اور اس مکان کی تعمیر کر کے چھوڑے گا۔“ ( مطبوع الفضل 7 نومبر 1935 ء ) 172