تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 170
خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول حکومت نے غلطی کی اور میں کہوں گا اب تک غلطی کر رہی ہے کیونکہ جن افسروں نے سلسلہ احمدیہ کے وقار کو مٹانے کے لئے کاروائیاں کیں ان کے خلاف وہ کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔احرار نے سمجھا تھا کہ یہ بھی شاید کوئی روپیہ بٹورنے والی جماعت ہے اور ہماری طرح اس کے بھی بعض لیڈر ہوں گے اور حکومت نے بھی خیال کیا کہ یہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے اس کے حقوق کی نگہداشت کی کیا ضرورت ہے؟ مگر ہم نے احرار کو بھی کچھ نہیں کہا خدا نے ہی ان کو سزا دی ہے اور اگر حکومت اپنے ان افسروں کو سزا نہیں دے گی تو خدا تعالیٰ ان افسروں کو سزا دے گا۔بے شک برطانوی حکومت کا ہاتھ بہت وسیع ہے مگر ہمارے خدا کا ہاتھ اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔حکومت یہ مت خیال کرے کہ ان معاملات کو دبایا اور ہمیں ڈرایا جا سکتا ہے یا لالچ دی جاسکتی ہے۔بہتک ہماری نہیں بلکہ خدا کے سلسلہ کی کی گئی ہے اور جو کام ہم نہیں کر سکتے اسے ہمارا خدا کر سکتا ہے اس لئے ہم نہ قتل سے ڈرتے ہیں نہ پھانسی سے اور نہ دیگر سزاؤں سے۔حکومت یہ خیال بھی نہ کرے کہ لمبے عرصہ کے بعد ہم ان باتوں کو بھول جائیں گے۔ہمارے دلوں میں بغض نہیں مگر ہمارا خدا اپنے دین اور اپنی جماعت کی ہتک کو تو بہ کے بغیر معاف نہیں کیا کرتا۔ہم حکومت کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور یہ چیز ہمارے مذہب کی تعلیم کے خلاف ہے لیکن خدا کی غیرت بھی وہیں جوش میں آیا کرتی ہے جب وہ بندے کے ہاتھ باندھ دیتا ہے۔جہاں وہ خود مقابلہ کی اجازت دیتا ہے وہاں خود چپ رہتا ہے لیکن جب ہاتھ روکتا ہے تو پھر خود اس کا انتقام لیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ کسی مجلس میں بیٹھے تھے حضرت ابو بکر بھی تھے کہ ایک شخص آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت ابو بکر" کو گالیاں دینے لگا۔کچھ دیر کے بعد حضرت ابو بکر کو بھی غصہ آگیا اور انہوں نے کوئی جواب دیا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو بکر جب تک تم خاموش تھے خدا کہہ رہا تھا کہ یہ میرا بندہ مظلوم ہے میں نے اس کی زبان رو کی ہوئی ہے اس لئے فرشتے جواب دے رہے تھے مگر اب تم بولے تو فرشتے خاموش ہو گئے۔تو جہاں خدا بندے کو روکتا ہے وہاں خود انتقام لیتا ہے۔ہو سکتا ہے حکومت کے بعض افسر دہریہ ہوں یا بعض دہر یہ تو نہ ہوں مگر زندہ خدا کے قائل نہ ہوں یا بعض زندہ خدا کے قائل تو ہوں مگر یہ نہ مانتے ہوں کہ اس کا اسلام سے تعلق ہے یا بعض اس کا تعلق اسلام سے تو سمجھتے ہوں مگر یہ نہ مانتے ہوں کہ آج احمد یت ہی اسلام کا صیح نقشہ پیش کر رہی ہے لیکن ان کے ان خیالات سے خدا کی قدرتوں میں فرق نہیں آسکتا۔اس کی قدرتیں ظاہر ہوں گی اور ضرور ہوں گی۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے محتاج نہیں اور مجھے اس امر کی حاجت نہیں کہ حکومت میر ابدلہ لے لیکن میں یہ بات خود حکومت کے فائدہ کے طور پر کہتا ہوں کہ 170