تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 169
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1935ء اور آگے بڑھو۔جنہوں نے پہلے کوئی کمی کی ہے وہ اسے پورا کریں اور جنہوں نے پہلے پورا کیا ہے وہ اضافہ کریں اور اس وقت تک چین نہ لیں جب تک خدا کا وعدہ پورا نہ ہو اور یہ میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ خدا کا وعدہ تم میں سے اکثر کی زندگیوں میں پورا ہونے والا نہیں۔اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ یہ ہے کہ اسلام سب دنیا میں پھیل جائے گا، سب حکومتیں اسلامی ہوں گی اور غیر مسلم اس طرح دنیا میں رہ جائیں گے جس طرح آج چھوٹی چھوٹی غیر متمدن اقوام مثلاً گونڈ، بھیل وغیرہ ہیں۔ان عظیم الشان تغییرات کے لئے کہ کفر کو ایمان سے، نفاق کو جرات سے، جہالت کو علم سے اور بد دیانتی کو دیانت سے بدل دیا جائے ، ایک لمبے عرصہ اور متواتر قربانیوں کی ضرورت ہے۔دلائل سے دلوں میں اسلام کی عظمت قائم کرنا کوئی معمولی کام نہیں اور یہ کام ایک نسل سے نہیں ہو سکتا۔تمہارے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ اس کی بنیاد رکھوا رہا ہے اور اصل عزت اس وقت قبول کرنے والوں کی ہوتی ہے جب لوگ قبول کرنے سے ڈرتے ہیں۔دنیا میں قاعدہ ہے کہ جو لوگ تجارتی کمپنیاں جاری کرتے ہیں ان کو زیادہ حقوق دیئے جاتے ہیں اور بعض کمپنیاں تو کام شروع کرنے والوں کو چند ماہ کی کوشش کے صلہ میں لاکھوں کے حصے مفت دے دیتی ہیں کیونکہ انہوں نے اس وقت کام میں ہاتھ ڈالا جب لوگ گھاٹے سے ڈرتے تھے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی نظر میں بھی تمہاری وقعت زیادہ ہے مگر ضرورت ہے کہ تمہاری قربانیاں مسلسل ہوں۔جھٹکے والی قربانی نہ ہو۔ایسی قربانیاں تو ادنی درجہ کا کیڑا اور جاہل انسان بھی کر لیتا ہے۔مومن کا یہ کام ہے کہ وہ رات دن ایک دھن کے ماتحت چلتا جاتا ہے مخالفت ہو یا نہ ہو وہ اپنے کام کو نہیں بھولتا۔یہ چیز تمہارے اندر ہونی چاہئے اور تمہیں دم نہیں لینا چاہئے جب تک کہ فتح نصیب نہ ہو جس کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ تم میں سے اکثر کی زندگی میں نہیں ہوگی۔گویا اس دنیا میں ہمارے لئے آرام کا کوئی مقام نہیں ہم اپنے بوجھ اپنے آقا کے دربار میں جا کر ہی اُتاریں گے اور جو یہاں اُتارنا چاہتا ہے اسے اس میدان میں قدم رکھنے کی ضرورت نہیں۔اس ضمن میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے۔اس طوفان کے زمانہ میں حکومت کے بعض افسروں کی جہالت کی وجہ سے حکومت بھی ہماری مخالفت پر کمر بستہ ہو گئی تھی اور بعض افسروں کو جس طرح کسی کو بھجلی ہوتی ہے کوئی خیال پیدا ہوا اور وہ خواہ مخواہ ایک وفادار جماعت کے خلاف شرارتیں کرنے لگے اب حکومت کے رویہ میں میں اگر چہ ایک نیک تغیر دیکھتا ہوں مگر یہ تغیر ابھی تک حقیقت کو نہیں پہنچا۔حکومت محسوس کرتی ہے کہ ماتحتوں نے غلطیاں کی ہیں مگر وہ کوئی گرفت نہیں کرنا چاہتی۔حالانکہ دیانتداری کا تقاضا ہے کہ ایسے افسروں کو سزادی جائے جن سے قصور ہوا ہو حکومت کی عزت اسی میں ہے۔بہر حال 169