تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 164

خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول میں تھی تو کیا یہ بھی ممکن تھا کہ آج غیر مذاہب دنیا میں موجود ہوتے ؟ لوگ کہتے ہیں مسلمان دیوانے ہیں جہاں ان کی حکومت پہنچی وہاں انہوں نے اسلام کو تلوار کے زور سے پھیلایا۔ہم اس الزام کو بالکل غلط سمجھتے ہیں ہمیں تو الٹا یہ شکوہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر دیوانوں کی طرح اسلام کو پھیلانے کا جوش نہ رہا۔کاش ! جو جوش صحابہ میں یا ان کے بعد قریب کے زمانہ کے مسلمانوں میں تھا وہ بعد میں آنے والوں میں بھی ہوتا اگر ایسا ہوتا تو آج اسلام اس طرح غریب الوطنی کی حالت میں نہ ہوتا۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ وہ مذہب جس نے ساری دنیا کو فتح کیا اور ساری دنیا پر حکومت کی ، جس کے بادشاہوں کے سامنے دوسرے بادشاہ عاجزانہ حیثیت میں پیش ہوتے تھے ملکہ الزبتھ کے زمانہ میں انگلستان پر سپین نے حملہ کیا تو باوجود یکہ اس زمانہ میں مسلمانوں کی طاقت مٹ چکی تھی ، بیان کیا جاتا ہے کہ ملکہ الزبتھ نے ترکوں کو لکھا کہ میں نے سنا ہے مسلمان عورت کی عزت کی حفاظت کرتے ہیں۔میں ایک عورت ہوں اور اہل سپین نے مجھ پر حملہ کر دیا ہے کیا ترک میری مدد نہ کریں گے؟ جس زمانہ میں، بغداد کی خلافت قریباً مٹ چکی تھی اور طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی اُس زمانہ میں فلسطین کے علاقہ میں جہاں عیسائی صلیبی جنگیں کرنے والوں نے قبضہ کیا ہوا تھا ایک مسلمان عورت پر بعض عیسائیوں نے حملہ کیا اور دست درازی کرنے لگے جب اس کے کپڑے اُتار کر اسے ننگا کرنے لگے تو اس نے آواز دی کہ کوئی ہے جو بغداد کے خلیفہ کو یہ اطلاع دے کہ اس طرح ایک مسلم عورت کی بے حرمتی کی جارہی ہے؟ اس وقت خلافت صرف بغداد تک محدود تھی سب ریاستیں آزاد ہو چکی تھیں کسی قافلہ والے نے جس نے عورت کی یہ آواز سنی تھی بغداد پہنچ کر برسبیل تذکرہ کسی سے اس کا ذکر کیا کسی نے جا کر خلیفہ سے بھی اس کا ذکر کر دیا، اُس زمانہ میں عباسی خلیفہ بالکل شاہ شطرنج کی حیثیت رکھتا تھا مگر اس گئے گزرے زمانہ میں بھی جب اس نے یہ بات سنی تو اسے اس قدر غیرت آئی کہ تلوار نکال کر تخت سے کود پڑا اور چلایا کہ میں تمہاری امداد کو ابھی آتا ہوں، ابھی آتا ہوں۔چونکہ عباسی خاندان عرصہ سے حکومت کر رہا تھا اس لئے ان کا آزاد ریاستوں پر بھی ایسا اثر تھا کہ خلیفہ بغداد کے اس اعلان سے ایک آگ لگ گئی اور سب خلیفہ بغداد کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے اور اس وقت تک آرام نہیں کیا جب تک اس عورت کو چھڑا کر نہیں لائے مگر آج کیا ہے؟ ایک معمولی عورت کا تو ذکر ہی نہیں ایک معزز ترین عورت کو بھی جانے دو، سب مسلمان عورتوں کی عزت کے سوال کو بھی جانے دو، ان سب سے زیادہ معزز اور مکرم اور مسلمانوں کی محبت کا مرکز جس کی عزت پر سب عزتیں قربان ہیں یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! کی عزت کو لے لو، اس سے کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ آج کھلے بندوں 164