تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 162
خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول افریقہ یا جزائر کے لوگوں کو فتح کریں بلکہ ہمارے سپرد یہ کام ہے کہ دنیا کے ہر ملک اور زمین کے ہر حصہ میں رہنے والے لوگوں کے دلوں کو فتح کریں اور ان دلوں کو صاف اور پاک کر کے خدا تعالیٰ کے قدموں میں لا ڈالیں اور ظاہر ہے کہ یہ کام کوئی معمولی کام نہیں اور معمولی قربانیاں اس کے لئے کافی نہیں ہو سکتیں۔یہ کام نہیں ہو سکتا جب تک یہ بات ہمارے دلوں میں نقش نہ ہو جائے اور ہمارے سینوں کے اندر ایک آگ نہ لگ جائے ایسی آگ جسے دنیا کی کوئی طاقت سرد نہ کر سکے اور جو ہمیں ، سوائے اس کے کہ ہمارا مقصد پورا ہو جائے ، اپنے فرض سے غافل نہ ہونے دے۔میں نے ایک تحریک پیش کی تھی جس میں انیس مطالبات تھے ان میں سے مالی مطالبہ کے متعلق جماعت نے جو جواب دیا وہ شاندار تھا۔میں نے ساڑھے ستائیں ہزار کا مطالبہ کیا تھا مگر وعدے ایک لاکھ آٹھ ہزار کے ہوئے جن میں سے اٹھاسی ہزار وصول ہو چکا ہے۔گویا ہیں ہزار کے وعدے ابھی باقی ہیں اور اسی فیصدی رقوم وصول ہو چکی ہیں۔اس کے علاوہ کچھ اور تحریکات بھی تھیں۔مثلاً یہ کہ نوجوان اپنی زندگیاں پیش کریں اس کے ماتحت دواڑھائی سونو جوانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ان میں سے بعض کو ہم نے کام پر لگایا اور بعض کو نہیں لگایا جا سکا۔یہ جواب بھی گو ایسا شاندار نہ تھا جتنا ہمیں جماعت سے امید رکھنی چاہئے مگر دوسری جماعتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت حد تک شاندار تھا۔اس کے علاوہ کچھ تحریکیں جماعت کی اندرونی حالت کی اصلاح اور درستی کے متعلق تھیں ، مثلاً ایک سادہ زندگی کے متعلق تھی کہ سادہ خوراک کھا ئیں اور سادہ لباس پہنیں، خوراک کے لئے ایک قانون بنا دیا گیا تھا کہ صرف ایک ہی سالن استعمال کیا جائے سوائے دعوت کے جو ایسے شخص کی طرف سے ہو کہ انکار کرنا اس کے لئے موجب تکلیف ہو باقی ایک نمکین اور ایک میٹھے کے سواد وسرا کھانا استعمال نہ کیا جائے میٹھا اس واسطے رکھا تھا کہ بعض لوگوں کو اس کی عادت ہوتی ہے اور یہ ان کے لئے کھانے کا ایک جزو ہوتا ہے یہ مطلب نہ تھا کہ جنہیں روزانہ میٹھا کھانے کی عادت نہیں وہ سالن تو ایک کر دیں لیکن بیٹھا زائد کر دیں۔پھر میں نے کہا تھا کہ عورتیں کپڑے بنوانے میں احتیاط سے کام لیں گوٹہ کناری کا استعمال نہ کریں، زیورات نہ بنوائیں، پرانی اشیاء تلف کرنے کا میں نے حکم نہیں دیا تھا مگر آئندہ ایسے سامان جن میں اسراف کا رنگ ہو جیسے گوٹہ کناری وغیرہ ہیں، ان سے منع کر دیا تھا۔پھر ضرورت سے زیادہ کپڑے بنوانے کی ممانعت کی تھی۔ان سب چیزوں کی تفاصیل آئندہ چند خطبوں میں میں پھر بیان کروں گا سر دست میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ جس رنگ میں جماعت نے مالی قربانی کی ہے اس حد تک دوسری باتوں کی طرف توجہ نہیں کی۔سادہ زندگی کے متعلق میں جانتا ہوں کہ ہزار ہالوگوں نے اپنے اندر تغیر پیدا کیا 162