تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 161
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول جلد خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1935ء گزشتہ سال سے زیادہ قربانیوں کے لئے تیار ہو جاؤ خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1935ء يَاأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ انَّا قَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيْتُمْ بِالْحَيوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الحيوةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ (سورۃ توبہ: 38) سے شروع کر کے آخر رکوع تک تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: آج ان واقعات پر ایک سال گزرتا ہے جو گزشتہ سال جماعت کے لئے دنیا کی نگاہوں میں تباہی کا پیغام لے کر آئے تھے اور جنہوں نے غیر تو غیر اپنوں میں سے بھی کمزور دل کے لوگوں کو گھبراہٹ میں ڈال دیا تھا اور وہ سمجھنے لگے تھے کہ جماعت کا مستقبل نہایت تاریک نظر آتا ہے۔اسی مقام سے، اسی دن اور اسی مہینہ میں گزشتہ سال میں نے جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ جب تک اپنی حالت میں تبدیلی نہ کرے گی، مغربی اثر کو دور کر کے مکمل اسلامی طریق اختیار نہیں کرے گی اور اس راہ کو جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ جماعتیں چل کر کامیاب ہوتی ہیں، اختیار نہ کرے گی اس وقت تک یہ مصائب اور مشکلات کسی صورت میں دور نہ ہوں گی۔میں نے ایک سکیم بیان کی تھی جس کے پہلے حصہ کے لئے تین سال کی میعاد مقرر کی تھی اور بتایا تھا کہ یہ مصائب اور ابتلا آنے ضروری ہیں اور جو جماعتیں ان سے گھبرا جاتی ہیں اور اپنے قدموں کو مست کر دیتی ہیں وہ روحانی دنیا میں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں اور یہ کہ روحانی اور دنیوی لشکروں میں فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ دنیوی لشکر ایک حد تک چل کر رک جاتے ہیں لیکن روحانی لشکر جب تک اس منزل پر نہیں پہنچ جاتے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے مقدر ہوتی ہے اپنے قدم ست نہیں کرتے اور میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ ہمارے سامنے ایک قوم ، ایک ملک یا ایک مذہب کے لوگ نہیں ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی سب اقوام ، سب ممالک اور سب مذاہب و ملل کی طرف مبعوث فرمایا ہے اس لئے ہمارا صرف یہ کام نہیں کہ ہندوستان کے لوگوں کو فتح کریں، چین کے لوگوں کو فتح کریں، جاپان، افغانستان یا عرب کے لوگوں کو فتح کریں ، ایشیاء 161