تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 157
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمود : 23 اگست 1935ء تحریک جدید کے مطالبات پر ستی سے عمل کرنے والوں کے لئے انتباہ خطبہ جمعہ فرمودہ 23 اگست 1935ء میں نے گزشتہ سال یہ اعلان کر دیا تھا کہ اب میں ستوں کی پروا نہیں کروں گا اور جو مستعد ہیں ان کو آگے لے جاؤں گا۔ہم سونے والوں کو جگائیں گے مگر جو نہیں جاگیں گے ان کو چھوڑتے جائیں گے۔پچھلے سال میں نے بتایا تھا کہ میں نے جس قربانی کا مطالبہ کیا ہے یہ بہت ہی کم ہے آئندہ کے لئے جو سکیم میرے مد نظر ہے وہ بہت بڑی قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے اور اب یہی ہوگا کہ کمزوروں کے متعلق ہم یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور جو باقی ہیں ان کو آگے بڑھا لے جاؤں گا اور اس صورت میں خواہ دس آدمی بھی میرے ساتھ ہوں انجام کار فتح انہی کی ہوگی۔پس ان معاملات میں اب میں نہ ناظروں کی پروا کروں گا، نہ انجمن کی ، نہ افراد کی اور نہ جماعتوں کی اور نہ مشوروں سے کام کروں گا۔اب تو یہی ہے کہ جو ہمارے ساتھ چل سکتا ہے چلے اور جو نہیں چل سکتا وہ پیچھے رہ جائے۔اس پوزیشن میں اب میں کوئی تبدیلی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں حتی کہ فتح کا دن آجائے اس وقت تک میں اب کسی کا لحاظ نہیں کروں گا۔لوگ کہتے ہیں کہ ڈرانا نہیں چاہئے مگر میں کہتا ہوں کہ جو ڈرنے والے ہیں وہ بے شک ڈر جائیں بلکہ میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ تین سال کی شرط ہی ضروری نہیں ممکن ہے یہ تحریک مستقل ہی ہو؟ اور اس سے بھی زیادہ قربانیوں کی ضرورت پیش آئے۔جو ان کو اپنے اوپر بوجھ سمجھتا ہے وہ الگ ہو جائے۔اب قربانیوں کا مطالبہ زیادہ سے زیادہ ہوگا جو اس کو بوجھ سمجھتا ہے وہ نہ اُٹھائے۔حتی کہ جو انگلی اُٹھا کر بھی کوئی اعتراض کرے گا میں اُسے جماعت سے علیحدہ کردوں گا۔بے شک مشورہ میں میں اب بھی دوسروں کو شامل کروں گا لیکن کروں گا وہی جو مجھے خدا تعالیٰ سمجھائے کیونکہ اب جنگ کا زمانہ ہے جب کمانڈر انچیف وہی کرتا ہے جسے ضروری اور مناسب سمجھتا ہے اور بے ہودہ بحثوں میں وقت ضائع نہیں کرتا۔“ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لئے سامان رکھے ہیں میں نے کہا تھا کہ جس کے پاس کچھ نہیں وہ دعائیں ہی کیا کرے۔پس اگر دل پر زنگ ہے تو یہ مت خیال کرو کہ وہ دور نہیں ہو سکتا۔اپنے آپ کو دھواں 157