تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 153

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از تقریر بر موقع جلسه 26 مئی 1935ء پراکتفا کریں۔جماعت کا اکثر حصہ اس تحریک کو قبول کر چکا ہے مگر پھر بھی کئی ہیں جو اس بارہ میں غفلت کرتے ہیں اور پھر کئی ہیں جو بار بار شرطیں پوچھتے ہیں۔ایک خاتون نے مجھے کہا اور کتنا شرمندہ کیا کہ مردوں کو کھانے کا شوق ہوتا ہے آپ نے ان کو ایک کھانے کا حکم دیا مگر وہ اس کے متعلق کئی سوالات پوچھتے رہتے ہیں۔عورتوں کو زیور کا شوق ہوتا ہے اور آپ نے انہیں حکم دیا کہ زیور نہ بنواؤ ! عورتوں نے اس کے متعلق کوئی سوال کیا ہی نہیں اور فوراً اس حکم کو مان لیا۔میں اپنے منصب اور مقام کے لحاظ سے تو نہ مشرقی ہوں نہ مغربی نہ عورتوں کا ایجنٹ ہوں نہ مردوں کا مگر اس کے اس لطیفہ میں مجھے مزا آیا کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو بھی جواب کا موقع دے دیا۔ہمیں چاہئے کہ قربانی کے لئے ہر وقت تیار رہیں اور تیاری کرتے ر ہیں ورنہ وقت آنے پر فیل ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی ایک مثال سنایا کرتے تھے کہ کسی بادشاہ نے کہا سپاہیوں کا کیا فائدہ ہے؟ خوامخواہ بیٹھے تنخواہ لیتے ہیں ، سب سپاہی موقوف کر دیئے جائیں۔جب قریبی ملک کے بادشاہ کو اس کا علم ہوا تو اس نے جھٹ حملہ کر دیا۔اب اس نے مقابلہ کی یہ تجویز کی کہ سب قصائیوں کو بھیجا جائے تا کہ حملہ آور فوج کا مقابلہ کریں چنانچہ انہیں بھیجا گیا مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ بھاگے ہوئے آئے کہ حضور بہت ظلم ہو گیا! وہ لوگ تو نہ رگ دیکھتے ہیں نہ پٹھا! ہم تو چار چار آدمی مل کر پہلے ایک آدمی کو لٹاتے ہیں اور پھر قاعدہ کے ساتھ اسے ذبح کرتے ہیں مگر وہ لوگ اتنے عرصہ میں ہمارے ہیں آدمی مارڈالتے ہیں ہم فریادی ہو کر آئے ہیں کہ کوئی انتظام کیا جائے۔پس جو قوم دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار نہیں رہتی اس کا وہی حال ہوا کرتا ہے جوان قصائیوں کا ہوا۔تمہارا مقابلہ بھی ان لوگوں سے ہے جو نہ رگ دیکھتے ہیں نہ بیٹھا اور جب تک تم بھی ان کے مقابلہ کے لئے اچھی طرح تیار نہ ہو گے کامیابی نہیں ہو سکتی اس لئے تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ ، سادہ غذا کھاؤ اور جو اس ہدایت سے منہ موڑے تم اس سے منہ موڑ لو اور اس سے صاف کہہ دو کہ آج سے میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں ، اسی طرح اپنے لباس کو سادہ بناؤ اور ضرورت سے زیادہ کپڑے نہ بنواؤ جن کے پاس کافی کپڑے ہوں جب تک وہ پھٹ نہ جائیں اور نہ بنائیں اور جب بنوائیں تو کم بنوائیں ، اسی طرح عورتیں بھی محض پسندیدگی کی وجہ سے کپڑا نہ خریدیں اور جب ضرورت ہو تو ستا خریدیں۔زیورات کے متعلق میں نے ہدایت کی تھی کہ ان کا بنوانا بند کر دیں سوائے شادی بیاہ کے اور شادی بیاہ میں بھی پہلے سے کمی کر دیں ہاں ٹوٹے پھوٹے کی معمولی مرمت ہو سکتی ہے۔پھلوں کے متعلق میں نے کہا تھا کہ یہ چونکہ صحت کے لئے ضروری ہیں اس لئے میں کلی طور پر تو ان کی ممانعت نہیں کرتا مگر حتی الوسع کم استعمال کئے جائیں۔بہت 153