تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 152

اقتباس از تقریر بر موقع جلسه 26 مئی 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول جھگڑے بند کر دیں۔میری اس تحریک کے نتیجہ میں سینکڑوں نے صلح کی لیکن سینکڑوں ایسے ہیں جو پھر لڑنے لگ گئے اس لئے اس مطالبہ کے چھ ماہ بعد میں پھر آپ لوگوں کو اور جو یہاں موجود نہیں ان کو اخبار کے نمائندوں کے ذریعہ توجہ دلاتا ہوں کہ کوئی احمق ہی اس وقت اپنے بھائی سے لڑ سکتا ہے جب کوئی دشمن اس کے گھر پر حملہ آور ہو۔ایسے نازک وقت میں اپنے بھائی کی گردن پکڑنے والا یا تو پاگل ہو سکتا ہے یا منافق۔ایسے شخص کے متعلق کسی مزید غور کی ضرورت نہیں وہ یقینا یا تو پاگل ہے اور یا منافق ! اس لئے آج چھ ماہ کے بعد میں پھر ان لوگوں سے جنہوں نے اس عرصہ میں کوئی جھگڑا کیا ہو کہتا ہوں کہ وہ تو بہ کریں، تو بہ کریں، تو بہ کریں ورنہ خدا کے رجسٹر سے ان کا نام کاٹ دیا جائے گا اور وہ تباہ ہو جائیں گے۔منہ کی احمدیت انہیں ہرگز ہرگز نہیں بچا سکے گی۔ایسے لوگ خدا کے دشمن ہیں، رسول کے دشمن ہیں ، قرآن کے دشمن ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے دشمن ہیں۔ایسے لوگ خون آلود گندے چیتھڑے کی طرح ہیں جو پھینک دیئے جانے کے قابل ہے اس لئے ہر وہ شخص جس نے اپنے بھائی سے جنگ کی ہوئی ہے میں اس سے کہتا ہوں کہ پیشتر اس کے کہ خدا کا غضب اس پر نازل ہو وہ ہمیشہ کے لئے صلح کرلے اور پھر کبھی نہ لڑے۔ذرا غور تو کرو تم کن باتوں کے لئے لڑتے ہو؟ نہایت ہی ادنی اور ذلیل باتوں کے لئے؟ پھر میں نے نصیحت کی تھی کہ اس زمانہ میں مالی قربانی کی بہت ضرورت ہے اس لئے سب مرد اور عورتیں اپنی زندگی کو سادہ بنائیں اور اخراجات کم کر دیں تا جس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے قربانی کے لئے آواز آئے وہ تیار ہوں۔قربانی کے لئے صرف تمہاری نیت ہی فائدہ نہیں دے سکتی جب تک تمہارے پاس سامان بھی مہیا نہ ہوں۔ایک نابینا جہاد کا کتنا ہی شوق کیوں نہ رکھتا ہو اس میں شامل نہیں ہوسکتا ، ایک غریب آدمی اگر زکوۃ دینے کی خواہش بھی کرے تو نہیں دے سکتا، ایک مریض کی خواہش خواہ کس قدر زیادہ ہو روزے نہیں رکھ سکتا۔پس اگر سامان مہیا نہ ہوں تو ہم وہ قربانی کسی صورت میں بھی نہیں کر سکتے جس کی ہمیں خواہش ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک سادہ زندگی اختیار کرے تا کہ وقت آنے پر وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکے اور اگر اس کا موقع نہ آئے تو بھی خدا تعالیٰ سے کہہ سکو کہ ہم نے جو جمع کیا تھا اگر چہ وہ ملا تو ہماری اولاد کو ہی لیکن ہم نے اسے دین کے واسطے قربانی کی نیت سے جمع کیا تھا اسی لئے میں نے یہ تحریک کی تھی کہ دوست سادہ غذا کھا ئیں اور ایک ہی کھانے پر اکتفا کریں اور دعوتوں وغیرہ کے موقع پر اگر چہ یہ پابندی نہ ہومگر کوشش کی جائے کہ ایسے مواقع پر بھی خرچ کم ہو، کھانا معمولی اور ستا ہو اور دعوتوں کے موقع پر جو لوگ پہلے چار کھانے تیار کرتے تھے وہ دو کریں اور جو آٹھ دس کرتے تھے وہ تین چار 152