تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 151

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از تقریر بر موقع جلسه 26 مئی 1935ء " تحریک جدید کے بعض مطالبات کا تذکرہ تقریر فرموده 26 مئی 1935ء کوئی تین ماہ کا عرصہ گزرا میں ایک سفر پر جارہا تھا کہ میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ خیال ڈالا کہ تحریک جدید کے متعلق جو اُمور میں نے بیان کئے ہیں وہ جماعت کے سامنے اس وقت تک کہ مشیت الہی ہمیں کامیاب کر دے ہر چھٹے ماہ دہرائے جانے چاہئیں۔اس کے ساتھ ہی مجھے یہ خیال آیا کہ اس کے لئے پہلا دن اگر وہ دن ہو جس دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے تھے تو یہ گویا ہمارے عہدوں کی تجدید کا نہایت لطیف موقع ہو گا لیکن مشکل یہ ہے کہ ہندوستان میں جلسے اچھی طرح صرف اتوار کے روز ہی ہو سکتے ہیں اور دوسرے دنوں میں بوجہ تعطیل نہ ہونے کے عمدگی سے نہیں ہو سکتے۔اس وقت سواری میں میرے ساتھ برادرم سید محمود اللہ شاہ صاحب تھے۔میں نے انہیں کہا کہ حساب لگا ؤ 26 مئی کو ہو کون سا دن ہوگا ؟ میرا دل کہتا ہے کہ اتوار ہی ہوگا۔انہوں نے حساب لگایا تو حساب میں کوئی غلطی ہوگئی اور انہوں نے کہا کہ نہیں یہ دن اتوار کا نہیں ہوگا مگر میں نے کہا کہ نہیں پھر حساب لگا ئیں میرا دل گواہی دیتا ہے کہ وہ دن ضرور اتوار کا ہوگا۔چنانچہ پھر جب انہوں نے حساب لگایا تو 26 مئی کو اتوار ہی تھا اور تحریک کے اعلان کے چھ ماہ بعد پہلا اتوار کا دن آتا تھا۔پس میں نے سمجھا کہ یہ خیال الہی تصرف کے ماتحت تھا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر اس کے کہ ہم کسی بدعت کے مرتکب ہوں یا ایسی رسم کے مرتکب ہوں جس کی مذہب اجازت نہیں دیتا ہم کو یہ موقع دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اس دن جس دن کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے پاس بلالیا اور آپ کے کام کا بوجھ ہمارے کندھوں پر ڈالا، ہم سے اس اقرار کی تجدید کرائے کہ دنیا مخالفتوں، عداوتوں اور عناد میں خواہ کتنی بڑھ جائے ایک سچا احمدی اپنا فرض سمجھے گا کہ ہر قربانی کر کے اس مقصد کو پورا کرے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمارے سامنے رکھا ہے۔“ وو ان فتنوں سے بچنے کیلئے میں نے بتایا تھا کہ دوست سب سے پہلے یہ کریں کہ باہم لڑائی 151