تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 143
تحریک جدید-ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جنوری 1935ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صریح عمل کے خلاف ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی نعوذ باللہ ٹو نے وغیرہ کیا کرتے تھے۔اس پر جب تحقیقات کی گئی تو معلوم ہوا کہ کسی شخص نے ایسا خواب دیکھا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے جب اس خواب کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا اسے ظاہری شکل میں ہی پورا کر دو۔اب خواب کو پورا کرنے کے لئے ایک کام کرنا بالکل اور بات ہے اور ارادہ ایسا فعل کرنا اور بات اور ظاہر میں خواب کو بعض دفعہ اس لئے پورا کر دیا جاتا ہے کہ تا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کا مصر پہلو اپنے حقیقی معنوں میں ظاہر نہ ہو۔چنانچہ معبرین نے لکھا ہے کہ اگر منذ رخواب کو ظاہری طور پر پورا کر دیا جائے تو وہ وقوع میں نہیں آتی اور خدا تعالیٰ اس کے ظاہر میں پورے ہو جانے کو ہی کافی سمجھ لیتا ہے۔اس کی مثال بھی ہمیں احادیث سے نظر آتی ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ سراقہ بن مالک کے ہاتھوں میں کسری کے سونے کے کنگن ہیں۔اس رویا میں اگر ایک طرف اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ ایران فتح ہوگا تو دوسری طرف یہ بھی اشارہ تھا کہ ایران کی فتح کے بعد ایرانیوں کی طرف سے بعض مصائب و مشکلات کا آنا بھی مقدر ہے کیونکہ خواب میں اگر سونا دیکھا جائے تو اس کے معنے غم اور مصیبت کے ہوتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ مسلم کے رویا کے اس مفہوم کو سمجھا اور سراقہ کو بلا کر کہا کہ پہن کڑے ورنہ میں تجھے کوڑے ماروں گا۔چنانچہ اسے سونے کے کڑے پہنائے گئے اور اس طرح حضرت عمرؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس رویا کے غم اور فکر کے پہلو کو دور کرنا چاہا مگر ظاہری صورت میں خواب کو پورا کر دینے کے باوجود پھر بھی خواب کا کچھ حصہ حقیقی معنوں میں پورا ہو گیا کیونکہ حضرت عمر کو شہید کرنے والا ایک ایرانی ہی تھا۔پھر ایران میں شیعیت نے جو ترقی کی وہ ہمیشہ مسلمانوں کے لئے غم اور مصیبت ہی بنی رہی ہے مگر یہ بات تب کھلی جب میں نے دریافت کیا کہ ایسی روایت کیوں درج کر دی گئی ہے؟ غرض عقل اور فہم کی زیادتی اخلاص کے ساتھ نہایت ہی ضروری ہوتی ہے ورنہ بڑی بڑی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے پاس شکایت آئی کہ کچھ عورتیں اپنے مردے پر نوحہ کر رہی ہیں آپ نے فرمایا انہیں منع کرو مگر جب منع کرنے کے باوجود وہ نہ رکیں اور دوبارہ آپ کے پاس شکایت کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ ان کے منہ میں مٹی ڈالو۔یہ تو عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ہمارے ملک میں بھی کہہ دیتے ہیں ”کھے کھاوے اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ وہ مٹی کھاوے بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر نہیں مانتا تو نہ مانے۔غرض عربی زبان کا یہ محاورہ ہے کہ جب کسی کے متعلق کہنا ہو کہ اسے 143