تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 134

خطبہ جمعہ فرمود : 11 جنوری 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول میں ہرگز کوئی قوم نہیں کہہ سکتی کہ چونکہ فلاں شخص نے جان دے دی ہے اس لئے اس کا فرض ادا ہو گیا۔جب تک تم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو اس قربانی کے لئے پیش نہیں کرتا، جب تک تم میں سے ہر شخص یہ سمجھ نہیں لیتا کہ اس کی زندگی اس کی نہیں بلکہ اس کے خدا اور اس کے رسول اور اس کے امام اور اس کے بھائیوں کی زندگی ہے، جب تک اس کی جان ہر ایک کی نہیں ہو جاتی سوائے اپنے آپ کے، اس وقت تک اس میدان میں کسی کو کامیابی نہیں ہوئی نہیں ہو سکتی نہیں ہوگی۔پس میں جماعت کے تمام افراد کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ قربانی روپیہ والی قربانی سے کم نہیں بلکہ اس سے ہزار ہا گنا زیادہ اہم ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے رو پیدا ادا کر کے اپنے فرض کو پورا کر دیا وہ تمسخر کرتے ہیں اپنے ایمان سے، وہ تمسخر کرتے ہیں احکام الہی سے اور تمسخر کرتے ہیں خدا اور اس کے رسول سے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم بدر یا اُحد کی جنگ کیلئے جارہے تھے اس وقت اگر کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک سو روپیہ دے دیتا اور کہتا یا رسول اللہ علہ ! میرا فرض ادا ہو گیا تو اس کا نام مومنوں میں شمار ہوتا ؟ کیا تم سمجھتے ہو خدا کا کلام اسے منافق قرار نہ دیتا؟ اگر سمجھتے ہوتو پھر تم تین ہزار نہیں دس ہزار روپیہ دے کر بھی کس طرح فرض کر لیتے ہو کہ تمہارا حق ادا ہو گیا؟ تم سے جس چیز کا مطالبہ کیا گیا اور جو اکیلا حقیقی مطالبہ ہے وہ تمہاری جان کا مطالبہ ہے۔نہ صرف تمہیں اس وقت اس مطالبہ کو پورا کرنا چاہئے بلکہ ہر وقت یہ مطالبہ تمہارے ذہن میں مستحضر رہنا چاہئے کیونکہ اس وقت تک تم میں جرات و دلیری پیدا نہیں ہو سکتی جب تک تم اپنی جان کو ایک بے حقیقت چیز سمجھ کر دین کے لئے اسے قربان کرنے کیلئے ہر وقت تیار نہ رہو۔کیوں تم میں سے بعض لوگ معمولی تکلیفوں سے گھبرا جاتے ہیں؟ کیوں مصیبت کے وقت ان کے قدم لڑکھڑا جاتے اور کیوں ابتلاؤں کے وقت ٹھو کر کھا جاتے ہیں؟ اسی لئے کہ یہ بات تمہارے ذہن میں نہیں کہ تمہاری جان تمہاری نہیں بلکہ خدا اور اس کے رسول اور اس کے سلسلہ کی ہے۔تم جب جماعت میں داخل ہوتے ہو تو یہ سمجھ لیتے ہو کہ تم نے ایک آنہ فی روپیہ چندہ دینا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ تو روپیہ میں سے پندرہ آنے بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔میں تو سمجھ بھی نہیں سکتا کہ ایک جاہل بھی ایسا خیال کرتا ہو کہ روپیہ میں سے پندرہ آنے لے کر اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے گا۔آخر کیا چیز ہے جس کو تم پیش کرتے ہو؟ یا درکھو کہ اس زمانہ کو خدا تعالیٰ نے ذوالقرنین کا زمانہ کہا ہے۔تم نے قرآن مجید میں پڑھا ہوگا کہ لوگوں نے اس سے کہا ہم تمہیں روپیہ دیتے ہیں۔ذوالقرنین نے اس کے جواب میں کہا کہ مجھے روپیہ کی ضرورت نہیں بلکہ میری فتوحات اور ذرائع سے ہوں گی۔میں اس تفصیل میں نہیں پڑنا چاہتا کہ وہ کیا ذرائع تھے جن سے ذوالقرنین کام لینا چاہتا تھا۔134