تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 123
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 جنوری 1935ء نہیں آسکتیں اور معمولی تکلیف کے وقت بھی اعلی درجہ کی دوائیں اور دوسری آرام دہ چیزیں نہیں مل سکتیں ان کو اس سے آزاد کر دوں اور تہذیب کے ان رسوں کو توڑ دوں۔جب ایک کشتی کے زنجیر توڑ دیئے جائیں تو کسی کو کیا معلوم کہ پھر لہریں اسے کہاں سے کہاں لے جائیں گی۔پس میں نے جماعت کی کشتی کا لنگر توڑ دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کشتی کو جہاں چاہے لے جائے کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے لئے کس ملک میں ترقی کے لئے زیادہ سامان مہیا کئے گئے ہیں۔پس یہ مت خیال کرو کہ دس ہیں یا سو دو سور و پیہ دے دیا اور فرض ادا ہو گیا یہ تو ادنی ترین قربانی تھی سکیم کے اصل حصے دوسرے ہیں جو زیادہ اہم ہیں اور جب تک ہر فرد جماعت ان کی طرف توجہ نہ کرے اور اس احتیاط کے ساتھ ان پر عمل نہ کرے جس کے ساتھ ایک لائق اور ہوشیار ڈاکٹر اپنے زیر علاج مریض کو پر ہیز کرواتا ہے اس وقت تک فائدہ نہیں ہو سکتا۔میں نے اپنی ذات میں بھی تجربہ کیا ہے اور باہر سے بھی بعض دوستوں کے خطوط آتے ہیں کہ پہلے یہ خیال رہتا تھا کہ فلاں خرچ کس طرح پورا کریں؟ مگر اب یہ خیال رہتا ہے کہ اس خرچ کو کس طرح کم کریں؟ اس پر عمل کرنے سے اور بھی بعض فوائد حاصل ہوتے ہیں۔مثلاً ہمارے گھر میں لوگ تحائف وغیرہ بھیج دیتے ہیں اور میں نے ہدایا کو استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے مگر جب وہ میرے سامنے لائے جاتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ ایک سے زیادہ چیزیں کیوں ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی نے تحفہ بھیج دیا تھا تو میں کہتا ہوں کہ ہمارے تعلقات تو ساری جماعت سے ہیں اس لئے ہمارے ہاں تو ایسی چیزیں روز ہی آتی رہیں گی اس لئے جب ایسی چیزیں آئیں تو کسی غریب بھائی کے ہاں بھیج دیا۔کر وضروری تو نہیں کہ سب تم ہی کھاؤ۔اس سے غربا سے محبت کے تعلقات بھی پیدا ہو جائیں گے اور ذہنوں میں ایک دوسرے سے انس پیدا ہو گا۔کئی دوست لکھتے ہیں کہ اس سکیم کے ماتحت تو ہمیں فلاں خرچ بھی ترک کرنا پڑتا ہے اور میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ یہی تو میری غرض ہے۔پس اس سکیم میں میں نے جو جو تحریکیں کی ہیں وہ ساری کی ساری ایسی ہیں کہ ان پر عمل کرنے سے تخفیف کی نئی نئی راہیں نکلتی ہیں اور ان کے نتیجہ میں ہم اپنی حالت کو زیادہ سے زیادہ اسلامی طریق کے مطابق کر سکتے ہیں۔میں ان لوگوں سے متفق نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پہلا طریق اسلامی نہیں تھا جیسا کہ میں نے بتایا ہے اسلامی طریق یہی ہے الْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ یعنی وہ قربانی کرو جس کا امام مطالبہ کرتا ہے جب وہ کوئی مطالبہ نہ کرے اس وقت حلال و طیب کو دیکھنا چاہئے لیکن جہاں وہ حکم دے وہاں حلال و طیب کو بھی چھوڑ دینا چاہئے۔ہاں مگر یہ ضروری ہے کہ یہ وقتی قربانی ہو اور اسلام کے دوسرے اصولوں کے مطابق ہو بدعت کا 123