تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 122

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جنوری 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول 1/100 حصہ تو کوئی چیز نہیں۔ایک شخص ایک گلاس پانی یا دودھ میں تین چمچے شکر ڈالنے کا عادی ہے۔ایک چیچ میں ڈھائی تین گرام شکر آتی ہے اور اس طرح وہ قریباً ایک اونس شکر ڈالتا ہے لیکن اگر وہ اس کا 1/100 حصہ یعنی صرف اڑھائی رتی ڈالے تو کیا اس سے پیالہ میٹھا ہو جائے گا؟ ہر گز نہیں ! اس میں اتنی مقدار کا تو پتہ بھی نہیں لگ سکے گا۔پس جو چیز تحریک ک1/100 حصہ ہے اس پر خواہ کس قدر جوش کے ساتھ عمل کیا جائے کامیابی نہیں ہو سکتی۔اصل کام وہ ہے جو جماعت کو خود کرنا ہے۔روپیہ تو ایسے حصوں کے لئے ہے جہاں پہنچ کر جماعت کام نہیں کر سکتی باقی اصل کام جماعت کو خود کرنا ہے۔قرآن اور حدیث سے کہیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ کسی نبی نے مزدوروں کے ذریعہ فتح حاصل کی ہو۔کوئی نبی ایسا نہ تھا جس نے مبلغ اور مدرس نوکر رکھے ہوئے ہوں خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک بھی مبلغ نوکر نہ تھا اب تو جماعت کے پھیلنے کی وجہ سے سہارے کے لئے بعض مبلغ رکھ لئے گئے ہیں جیسے پہاڑوں پر لوگ عمارت بناتے ہیں تو اس میں سہارے کے لئے لکڑی دے دیتے ہیں تا لچک پیدا ہو جائے اور زلزلہ کے اثرات سے محفوظ رہے۔پس ہمارا مبلغین کو ملازم رکھنا بھی لچک پیدا کرنے کے لئے ہے وگر نہ جب تک افراد جماعت تبلیغ نہ کریں، جب تک وہ یہ نہ بجھیں کہ ان کے اوقات دین کے لئے وقف ہیں، جب تک جماعت کا ہر فرد سر کو ہتھیلی پر رکھ کر دین کے لئے میدان میں نہ آئے اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔“۔۔۔جب تک جماعت کے ہر فرد کے اندر یہ روح پیدا نہ ہو اور جب تک ہر شخص اپنی جان سے بے پروا ہو کر دین کی خدمت کے لئے آمادہ نہ ہو جائےکوئی کامیابی نہیں ہوسکتی۔یہ اور بات ہے کہ ہم کسی پر ظلم نہ کریں، فساد نہ کریں، قانون شکنی نہ کریں مگر یہ روح ہمارے اندر ہونی چاہئے کہ ظالم کی تلوار سے مرنے کیلئے تیار ہیں اور میرے پروگرام کی بنیاد اسی پر ہے۔جب میں کہتا ہوں کہ اچھا کھانا نہ کھاؤ تو اس کا یہ مطلب ہے کہ جو اس لئے زندہ رہنا چاہتا ہے وہ نہ رہے اور جب کہتا ہوں قیمتی کپڑے نہ پہنو تو گویا طلب زندگی کے اس موجب سے میں تمام جماعت کے لوگوں کو محروم کرتا ہوں اور جب یہ کہتا ہوں کہ کم سے کم رخصتیں اور تعطیلات کے اوقات سلسلہ کے لئے وقف کرو تو اس بات کیلئے تیار کرتا ہوں کہ باقی اوقات بھی اگر ضرورت ہو تو سلسلہ کے لئے دینے کے واسطے تیار ہیں اور جب وطن سے باہر جانے کو کہتا ہوں تو گویا جماعت کو ہجرت کے لئے تیار کرتا ہوں۔طب میں سہولتیں پیدا کرنے کو اس لئے کہتا ہوں کہ جو لوگ تہذیب و تمدن کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور اس لئے باہر نہیں جا سکتے کہ وہاں یہ سہولتیں میں 122