تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 119
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1934ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہ الہام ہوا ہے۔پس اس مضمون نے آپ کوی جماعت کے بارے میں پورا ہو نا ہے۔مومن کو کلام الہی میں پرندہ کہا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام چونکہ ابراہیم رکھا گیا ہے اس لئے آپ سب لوگ ان کے پرندے ہوئے۔پس اے ابراہیم ثانی کے پرندو! اگر احیاء چاہتے ہو تو دنیا میں پھیل جاؤ مگر اس طرح نہیں کہ اپنے اصل گھر کو بھول جاؤ تمہارا اصل گھر قادیان ہی ہے خواہ تم کہیں رہتے ہوا سے یا درکھو۔جب تمہیں ابراہیمی آواز آئے ، قادیان سے خدا کا نمائندہ، میں یا کوئی اور جب کہے کہ اے احمد یو! خدا کے دین کو تمہاری اس وقت ضرورت ہے تم جہاں جہاں ہو مرکز میں حاضر ہو جاؤ۔اگر مال کی ضرورت ہو تو مال حاضر کرو، اگر جان کی ضرورت ہو تو جان پیش کر دو اور چاروں طرف سے وہی نظارہ نظر آئے جو حج کے موقع پر ہر طرف سے لبیک اَللَّهُمَّ لَبَّیک کہنے والوں کا نظر آتا ہے۔خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا تھا کہ تمہاری نسل چاروں طرف پھیل جائے گی اور جب تم ان کو بلاؤ گے تو دوڑیں آئیں گے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہونا چاہئے کہ چاروں طرف سے لبیک کہنے والے دوڑے آئیں۔اس نظارہ ہی کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس شعر میں اشارہ فرماتے ہیں کہ: زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے پس جاؤ اور دنیا میں پھیل جاؤ کہ کامیابی کا ذریعہ یہی ہے اور جب آواز پہنچے تو یوں جمع ہو جاؤ جس طرح پرندے اڑ کر جمع ہو جاتے ہیں۔پھر خواہ کتنی بڑی کوئی فرعونی طاقت تمہارے مٹانے کے لئے کھڑی ہو جائے اسے معلوم ہو جائے گا کہ احمدیت کو مٹانا آسان نہیں ہے۔یہ وہ چیز ہے جس کی میں آپ لوگوں سے امید کرتا ہوں کیونکہ آپ وہ لوگ ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے حقیقی ایمان پیدا کیا اور جو مقدس گھر کے گرد گھومنے والے پرندے ہیں۔میں نے خدا تعالیٰ کی باتیں آپ کو پہنچا دیں جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا اور جو کچھ بتانا تھا تا دیا۔اب یہ تمہارا کام ہے کہ لبیک اللھم لبیک کہتے ہوئے کھڑے ہو جاؤ۔“ ( مطبوعہ الفضل 20 جنوری (1935ء ) 119