تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 114
اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول اور اپنا تمام مال دے تب کامیابی ہوگی۔اگر کہو کہ بعض کی سستی اور کو تا ہی کا الزام ہم پر کیوں رکھا جاتا ہے؟ تو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر مومن کا فرض ہے کہ دوسروں کو اپنے ساتھ آگے بڑھائے اور پیچھے نہ رہنے دے۔مومن کسی حال میں پیچھے نہیں رہتا۔اگر رہتا ہے تو اسی وجہ سے کہ اس کی تربیت نہیں ہوئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت شراب کے حرام ہونے کا جب حکم نازل ہوا تو کچھ صحابہ ایک جگہ بیٹھے شراب پی رہے تھے اور شراب کے نشہ میں مخمور تھے ،شراب کا نشہ کتنا بڑا ہوتا ہے، اس وقت ایک شخص بازار سے یہ کہتا ہوا گزرا کہ اے مسلمانو ! رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے شراب حرام کر دی ہے! اس مخمور حالت میں، جب کہ کوئی اپنے ماں باپ کی بات سنے کیلئے بھی تیار نہیں ہوتا، ایک نے شراب کے نشہ میں کہا: ذرا دروازہ کھولنا تا معلوم کریں کہ کہنے والے نے کیا کہا ہے؟ دوسرا اٹھا اور اس نے کہا: پہلے میں شراب کے مٹکے اور دوسرے برتنوں کو توڑ دوں گا اور پھر پوچھوں گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کیا کہا ہے؟ پس مومن کو جب آواز پڑے تو خواہ وہ دنیا کے نشے میں کتنا ہی مخمور ہو تو بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ مومن تک آواز پہنچے۔ہمیں کافروں اور منافقوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مومنوں کی ہے اور سب کے سب مومنوں کی ہے اسی لئے میں نے کہا تھا کہ آپس میں اگر کسی کی ناراضگی ہو تو صلح کر لو تا کہ سب کے سب مل کر آگے بڑھیں اور ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہو جائیں۔پس جب سب مومن آگئے تو ان کا سب مال آ گیا تب فتح یقینی ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنا سارا مال مجھے دے دیں بلکہ یہ ہے کہ وہ سمجھیں کہ ان کے پاس جو کچھ ہے میرا ہی ہے۔پس سب کے سب مومنوں کو ساتھ لے کر اٹھو اور مل کر آگے قدم بڑھاؤ۔اگر کسی کو کسی سے ناراضگی ہو تو اسے دور کر دو۔دیکھو! جن بچوں کے ماں باپ مر جاتے ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے سے کس طرح پیار اور محبت کرتے ہیں۔اگر ان کے ماں باپ کو گالیاں دی جارہی ہوں اور وہ کچھ نہ کر سکیں تو کیا کریں گے؟ یہی کہ ایک دوسرے سے چمٹ کر رونے لگ جائیں گے۔میں نے وہ بچے دیکھے ہیں جو ماں کے مرجانے کی وجہ سے دوسری ماؤں کے سپرد کئے گئے اور جب ان کی ماں کو برا بھلا کہا گیا وہ آپس میں لپٹ کر رونے لگ گئے۔قرآن کریم میں نبی کو مومنوں کا باپ قرار دیا گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوئے ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا اور ہم اس وجہ سے اپنے آپ کو یتیم سمجھتے تھے۔پھر حضرت مسیح موعود بھی فوت ہو چکے ہیں، آج لوگ ان کو برا بھلا کہتے ہیں مگر ہم بے بس ہیں اس لئے نہیں کہ ہم میں کچھ کرنے کی طاقت نہیں ہے ، ان سے بہت زیادہ طاقت ہے جو ہمیں دکھ دے رہے ہیں بلکہ اس 114