تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 112

اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 14 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول پہنا جائے وہی لباس ہے جو نفس کے لئے پہنتا ہے وہ نگا ہے۔دیکھو! کیسے لطیف پیرایہ میں بتایا ہے کہ جب تک خدا کے لئے تکالیف اور مصائب برداشت نہ کرو تم سہولت نہیں اٹھا سکتے۔اس سے ان لوگوں کے خیال کا بھی ابطال ہو جاتا ہے جو بقول حضرت مسیح موعود علیہ السلام رمضان کو موٹے ہونے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔حضور فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگوں کے لئے تو رمضان ایسا ہی ہوتا ہے جیسے گھوڑے کے لئے خورید۔وہ ان دنوں میں خوب گھی ،مٹھائیاں اور مرغن اغذیہ کھاتے ہیں اور اسی طرح موٹے ہو کر نکلتے ہیں جس طرح خورید کے بعد گھوڑا۔یہ چیز بھی رمضان کی برکت کو کم کرنے والی ہے۔ہماری جماعت کے دوستوں نے عام اقرار کیا ہے کہ غذا کو سادہ کر دیں گے اور صرف ایک سالن پر گزارہ کریں گے۔اس میں شک نہیں کہ اس پر عمل میں نے ہر ایک کی مرضی پر چھوڑا ہے اور یہ تحریک اختیاری ہے مگر میں سمجھتا ہوں یہ اختیار صرف نیکی کو زیادہ کرنے کیلئے ہے ورنہ جو احمدی اسے اختیار نہیں کرتا وہ نیکی سے محروم رہتا ہے اس لئے دوستوں کو رمضان کے مہینہ میں خاص طور پر اس اقرار کے متعلق احتیاط برتنی چاہئے۔افطار میں تنوع اور سحری میں تکلفات نہیں کرنے چاہئیں اور یہ نہیں خیال کرنا چاہئے کہ سارا دن بھوکے رہے ہیں اب پرخوری کر لیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام افطار وغیرہ کے لئے کوئی تکلفات نہ کرتے تھے کوئی کھجور سے، کوئی نمک سے، بعض پانی سے اور بعض روٹی سے افطار کر لیتے تھے اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم بھی اسی طریق کو پھر سے جاری کریں جبکہ دین کیلئے خدا تعالیٰ وہی زمانہ پھر لایا ہے اور اس کے لئے طرح طرح کے مصائب ہیں بے شک ذاتی طور پر ہمارے لئے کوئی مصیبت نہیں لیکن جب دین کے لئے مصیبت ہے تو وہ ہمارے لئے ہے اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم وہی دن یاد کریں جب قرآن نازل ہوا تھا تو ہمارے لئے بھی وہی طریق اختیار کرنا ضروری ہے جو ان دنوں میں تھا۔( مطبوعه الفضل 20 دسمبر 1934 ء ) 112