تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 110
اقتباس از خطبه جمعه فرمود : 14 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہیں اور ان کے کرنے والوں کے متعلق بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بڑے خیر خواہ بنے پھرتے ہیں مگر یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ بڑا انکتہ نواز ہے اور وہ ضرور ثواب حاصل کر لیتے ہیں۔میں نے کسی گزشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے سپرد ایک مہمان کیا کہ اسے لے جا کر کھانا کھلاؤ۔آپ اسے ساتھ لے گئے اور بیوی سے پوچھا کہ کھانا ہے؟ اس نے کہا صرف بچوں کے لئے ہی ہے اس سے زیادہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تو مہمان ہے اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بھیجا ہوا۔بیوی نے کہا کہ پھر اس طرح کرتے ہیں کہ میں بچوں کو یونہی تھپک کر سلا دیتی ہوں اس کے بعد دستر خوان بچھا کر کھانا رکھ دوں گی تم کہنا کہ روشنی ذرا اونچی کر دو اور میں اونچی کرنے کے بہانہ سے گل کر دوں گی اور پھر معذرت کر دوں گی کہ آگ موجود نہیں اور روشنی کرنے کا کوئی اور سامان بھی نہیں ہمسایوں کو اس وقت تکلیف دینا مناسب نہیں اس لئے اگر مہمان اندھیرے میں ہی کھانا کھالے تو اس کی مہربانی ہوگی۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔بچوں کو سلا دیا اور بتی اونچی کرتے ہوئے دیا بجھا دیا، مہمان سے معذرت کر دی اور اس نے کہا کوئی حرج نہیں میں اندھیرے میں ہی کھالوں گا اور پھر خود مہمان کے ساتھ بیٹھ کر یونہی منہ مارتے رہے، اس وقت تک پردہ کا حکم نازل نہ ہوا تھا اس لئے اس خیال سے کہ مہمان ہتک نہ محسوس کرے میاں بیوی دونوں اس کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے اور اس طرح مچا کے مارنے شروع کئے کہ گویا کھانے میں بڑا لطف آرہا ہے۔اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ حرکت ایسی پسند آئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو وحی کے ذریعہ اس سے آگاہ کیا اور جب وہ صحابی اگلے روز حضور میں یہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ہنس کر فرمایا کہ کل رات تو تم نے خوب لطیفہ کیا! وہ صحابی گھبرائے کہ شاید میرے متعلق کوئی شکایت کسی نے کر دی ہے مگر آپ علیہ نے فرمایا کہ تمہاری اس بات کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ بھی ہنسا اور میں بھی ہنستا ہوں۔اللہ تعالیٰ کی ہنسی کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس کے دانت اور ہونٹ ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خوش ہوا، اس نے اس نکتہ کو نوازا اور اس کے عوض ان کے نام پر نیکیاں لکھیں۔تو بعض دفعہ چھوٹی باتیں بھی خدا کو پیاری لگتی ہیں۔سبقت کرنے والوں کی بعض باتیں بظاہر بے وقوفی کی ہوتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بہت مقبول ہوتی ہیں۔ہاں اگر ان کے اندر ریاء ہو تو پھر وہ لعنت بن کر گلے کا طوق بن جاتی ہیں۔غرض یہ دن جو آئے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے رحمت کا موجب ہیں اور اگر ان سے فائدہ اٹھایا جائے تو عظیم الشان تغیر ہم اپنے اندر پیدا کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی بعض ایسی باتیں ظاہر ہو 110