تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 104

خطبہ جمعہ فرموده 7 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول در پے نہ ہو۔ہمارا فرض ہے کہ ہم یہ حق ادا کریں۔اگر روحانی معنوں میں اپنی جانیں دینی پڑیں تو اس سے دریغ نہ کریں اور اگر جسمانی معنوں میں دشمنوں کے حملوں کا شکار ہونا پڑے تو اس سے دریغ نہ کریں۔بہر حال موت کا قبول کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔اگر ہم اس کے بغیر کامیاب ہو جائیں تو یہ دنیوی فتح ہوگی۔الہی سلسلے بغیر آگ اور خون کی ندیوں میں سے گزرنے کے کامیاب نہیں ہو سکتے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب آگ دیکھی تھی تو خدا نے اس میں سے پکار کر کہا تھا کہ انسٹی اَنَا اللهُ اور اس کا یہی مطلب تھا کہ اگر میرے پاس آنا چاہو تو تمہیں آگ میں سے گزرنا پڑے گا۔پس تمہیں آگ میں کودنا ہوگا اور خون کی ندیوں میں سے گزرنا پڑے گا تب فتح حاصل کر سکو گے اور وہی فتح قیمتی ہے جسے انسان جان دے کر حاصل کرتا ہے جس طرح کہ ہمارے آقا سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے نائب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا: اب وقت آگیا ہے کہ اس روحانی اور مذہبی جنگ کی بنیا د رکھی جائے جس سے شیطان کو ہم نے کچلنا ہے اور دشمن سے نڈر ہو کر مقابلہ کیا جائے ، اب وقت آگیا ہے کہ مخالفت کو بڑھنے دیا جائے اور دشمن کو حملہ کرنے دیا جائے یعنی گو اس سے مقابلہ کیا جائے مگر مداہنت کا کوئی رنگ نہ ہو ، جھوٹی صلح کے لئے کوئی کوشش نہ کی جائے ، سوائے ان لوگوں کے جو بچے طور پر ہم سے مل کر کام کرنا چاہیں کسی غیر سے تعلق نہ رکھا جائے ان صاف دل لوگوں کے ہم خیر خواہ ہوں گے اور انہیں اپنا خیر خواہ سمجھیں گے لیکن اب ہم دوغلی طبیعت والوں سے یا ان سے جو سلسلہ کو حقیر سمجھتے ہیں کبھی مل کر کام نہیں کریں گے۔ہر قوم کا راستباز ہمارا دوست ہوگا مگر زمانہ ساز آدمی خواہ ہماری جماعت میں شامل ہو ہمارا دشمن سمجھا جائے گا۔آخر میں میں سابقون کیلئے دعا کرتا ہوں، ان ظاہر و باطن غریبوں کے لئے بھی جن کا دل بھی غریب اور جسم بھی غریب ہے اور ان کے لئے بھی جو ظاہری مالدار نظر آتے ہیں لیکن ان کے دل انکسار اور تذلیل اور اطاعت کے جذبات سے لبریز ہیں۔وہ بھی اپنے آپ کو اسی طرح سلسلہ کا مال سمجھتے ہیں جس طرح غربا اور لوگوں میں اپنی بڑائی ظاہر نہیں کرتے اور محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اموال خدا تعالی کی امانتیں ہیں اور ان کی وجہ سے انہیں غربا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنا فضل کرے اور ان کو کامل تقومی عطا کرے کہ جو دائمی زندگی کے لئے بطور دورانِ خون کے ہے کہ جب تک خون چلتا ہے زندگی کی اُمید رہتی ہے۔104