تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 105

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء سابقون کے معنی میرے نزدیک یہ ہی ہیں کہ جس نے سنا اور ہفتہ کے اندر اندر لبیک کہہ دیا یا رقم دے دی یا وعدہ کر لیا یا وہ جنہوں نے حکم سنتے ہی دوسری خدمات کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا کیونکہ یاد رکھو کہ جن نوجوانوں نے تبلیغ کے لئے اپنے نام پیش کئے ہیں وہ کسی سے کم نہیں بشرطیکہ وہ اپنے دعوئی کو سچا کر دکھائیں یا وہ سابقون میں سے ہیں جنہوں نے سنا اور دوسروں کے مشمول کے خیال سے ابھی اطلاع نہیں دی اور اس انتظار میں ہیں کہ دوسروں کی لسٹ کے ساتھ اپنے نام بھجوائیں گے یا وہ جنہوں نے خیال کیا کہ دوسروں کو بھی تیار کر کے اپنے نام بھجوائیں گے یا جنہوں نے ارادہ کر لیا مگر کسی روک کی وجہ سے اطلاع نہیں دے سکے یہ سب سابقون میں سے ہیں کیونکہ مسابقت دل سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ ظاہر سے۔ہاں جسے جب اطلاع ہو اس کا ہفتہ وہیں سے شروع ہوگا اور سبقت یہی ہے کہ آدمی سنے اور مان لے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابو بکر نے دریافت کیا تھا کہ کیا آپ نے ایسا ایسا دعوی کیا ہے؟ آپ دلیل دینے لگے تو کہا مجھے دلیل کی حاجت نہیں صرف یہ فرمائیے کہ دعوی کیا ہے یا نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! تو انہوں نے کہا میں ایمان لاتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ میں ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ اس میں ہر دعا جو کی جائے قبول ہو جاتی ہے آج رات میں نے تہجد میں دعا کی کہ الہی مجھے توفیق دے کہ میں ان سابقون کے لئے دعا کروں اور وہ ساعت مجھے نصیب ہو اور ان کے حق میں میری دعائیں قبول ہوں گو بعد والے بھی دعاؤں سے حصہ پائیں گے مگر جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین کو مقصرین پر فضیلت دی تھی سابقون کو ان پر فضیلت ہوگی اور سابق دوہرے اجر پائیں گے اس لئے کہ جو کتا اور جھجکتا اور پھر اپنے آپ کو پیش کرتا ہے اس سے آواز سنتے ہی لبیک کہنے والے کا درجہ بہر حال زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس روحانی جنگ کو اپنی سستی یا تکلیف سے بچنے کے خیال سے پیچھے نہ ڈالیں بلکہ خدا تعالیٰ کے منشا کے مطابق دلیری اور جرات سے اُسے قریب لانے کی کوشش کریں اور پھر اس میں نڈر ہو کر کو د جائیں اور آگ اور خون کی ندیوں میں سے جو ہماری قربانیوں کی وجہ سے زمین کے نشیب کو پر کر رہا ہو گزر کر اس کے پاس پہنچ جائیں اور اس کے قدموں پر ہاں پاک قدموں پر اپنی محبت کا موتی ڈال دیں تا اس کی محبت کی نگہ ہمیں حاصل ہو اور وہ غریبوں کا والی اپنے غریبوں کو اپنی گود میں اُٹھا لے۔نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔“ ( مطبوع الفضل 13 دسمبر 1934ء) 105