تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 103

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء ہے اور اگر اسے مزید بڑھنے دیا گیا تو کچھ عرصہ بعد ہم اس کی ترقی کو روک نہیں سکیں گے اس لئے وہ ہر طرف سے ہم پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور ہمیں آج وہی نظارہ پیش ہے جو حضرت امام حسین کو کربلا میں پیش آیا تھا۔ہمارا حسین اس وقت کربلا کے میدان میں ہے اور یزید کا لشکر سامنے پڑا ہے۔اس کے ہاتھوں میں کمانیں کھنچی ہوئی ہیں اور تیرحسین کے سینہ کی طرف چھوٹنے والے ہیں۔پس جو چاہے کوفہ والوں کی طرح ایک طرف ہو جائے ، جو چاہے آگے آئے اور قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کرے اور کہے کہ جو تیر سلسلہ کے لئے چھوڑا جائے گا میں اسے خود اپنے سینہ پر کھاؤں گا اور جو ایسا کریں گے وہی برکت والے ہوں گے اور جن کے دلوں میں اخلاص نہیں یا اخلاص کی کمی ہے اللہ تعالیٰ انہیں ظاہر کر دے گا۔ہمارا کام صرف یہ ہے کہ اس مقصد کے لئے اپنی جانیں قربان کریں۔یہ نہیں کہ دوسروں کو مجبور کریں کہ آگے بڑھو۔یاد رکھو! کہ جو اس جنگ میں مرتا ہے وہ دراصل زندہ ہوتا ہے۔پس دوسروں کا فکر نہ کرو بلکہ اپنا فرض ادا کرو۔جو قربانی کر سکتا ہے مگر نہیں کرتا وہ کوفہ والوں کی طرح ہے جو اگر چہ جانتے تھے کہ حضرت امام حسین حق پر ہیں مگر ان کی امداد کے لئے میدان میں نہ آئے۔جو دشمن ہیں اور نقصان کے در پے، خواہ منافقوں سے ہوں خواہ کا فروں میں سے، وہ یزیدی ہیں اور یزید کا شکر ہیں۔پس جو اس وقت میدان میں آتے ہیں وہ حضرت امام حسین کے ساتھیوں کی طرح ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ تم تھوڑے ہو اس لئے ہار جاؤ گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر بات دو دفعہ ظاہر کرتا ہے اور پہلی ناکامی کو دوسری دفعہ کی کامیابی سے دھو دیتا ہے۔پہلا آدم جنت سے نکالا گیا اس لئے خدا نے پھر میرا نام آدم رکھا تا کہ میں پھر اولاد آدم کو جنت میں داخل کروں، پہلے مسیح کو یہودیوں نے صلیب پر لٹکا یا تب خدا نے پھر میرا نام مسیح رکھا تا میرے ذریعہ صلیب کو توڑ دے۔اسی طرح یاد رکھو کہ پہلا حسین کربلا میں بے گناہ حق کی حمایت کی وجہ سے شہید کیا گیا اور اب دوسرے حسین کے ذریعہ خدا تعالیٰ یزید کے لشکر کو شکست دے گا اس لئے میں تحریک کرنے والوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ صرف اخلاص کولیں اور روپیہ یا تعداد کی کمی کا خیال نہ کریں۔جو لوگ اخلاص کے ساتھ قربانیاں کرتے ہیں صرف وہی اس میں شامل کئے جائیں اور جو لوگ اپنے اندر اخلاص نہیں رکھتے وہ ہمارے ساتھ نہیں چل سکیں گے بلکہ ہمارے لئے بوجھ ہوں گے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ ہم بچے بھی ہوں اور خون کی ندیوں سے گزرے بغیر کامیاب بھی ہو جائیں کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ بچے کو دیکھ کر کفر جوش میں نہ آئے اور اسے مٹانے اور اس کے حاملوں کو قتل کرنے کے 103