تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 102

خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ان کے علاوہ طبقہ امرا میں اور لوگ بھی ہیں جو نہایت مخلص اور سچی قربانی کرنے والے ہیں مگر ان دو کا نام میں نے اس لئے لے دیا ہے کہ ایک تنوع اور دوسرے کی مالی اور تبلیغی قربانیاں بے مثال ہیں۔اللہ تعالیٰ ان دوسروں کے گھروں کو بھی برکتوں سے بھر دے۔مخلصین کے علاوہ جو لوگ ان سے اتر کر کریں۔وہ بھی دوسری اقوام کے امرا سے یقینا بہتر ہیں کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کے نور سے حصہ لے اور اس کی کچھ بھی اصلاح نہ ہو مگر جب تک حقیقی روح قربانی کی پیدا نہ ہو خطرہ کا مقام ہے۔قربانی کی روح اور شے ہے اور قربانی اور شے ہے۔انسان کو ابتلا سے قربانی محفوظ نہیں کرتی بلکہ قربانی کی روح محفوظ کرتی ہے۔جس میں وہ روح پیدا نہ ہو گو وہ قربانی میں حصہ لے پھر بھی کچے دھاگے کی طرح ہے جس کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے۔جماعت کے مخلص امرا میں سے سیٹھ عبد اللہ بھائی کو ایسا درجہ حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس قسم کے چالیس مومنوں کو خواہش کی تھی وہ ایسے ہی ہیں۔ان کا تبلیغی جوش حقیقتا اس درجہ کا ہے کہ صاف نظر آتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو تبلیغ میں خدا تعالیٰ کے سامنے ذمہ دار سمجھتے ہیں اور ان کی مالی قربانی اس رنگ کی ہے کہ مجھے ان۔بڑے بڑے مطالبہ میں کوئی جھجک نہیں ہو سکتی اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان جیسے چالیس آدمی پیدا ہو جائیں تو بہت بڑا انقلاب پیدا ہوسکتا ہے۔بہر حال اس وقت اخلاص کی ضرورت ہے اور میں نے سلسلہ کے حالات، خطرات اور ان کا علاج کھول کھول کر بیان کر دیا ہے۔اب وہ وقت ہے کہ اگر ہم نے کروٹ نہ بدلی تو ظاہری حالات کے لحاظ سے ہمارا زندہ رہنا مشکل ہے۔اس میں شک نہیں کہ خدا تعالٰی اس سلسلہ کو زندہ رکھے گا مگر ہم نے صحیح قربانی نہ کی تو خدا تعالیٰ ہمیں مٹا کر دوسری قوم کے سپرد یہ کام کرے گا۔وہ پہلے تختی کو صاف کرے گا کیونکہ جس تختی پر پہلے لکھا جا چکا ہو اس پر اور نہیں لکھا جا سکتا۔اس وقت ہمارے لئے حالات ایسے ہیں جنہیں عام لوگ نہیں سمجھ سکتے میں نے ایک حد تک انہیں ظاہر کیا ہے اور اگر ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اب کروٹ بدلنی اور ہوش میں آنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ هر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمار و بے کس ہمچو زین العابدین اور بعینہ یہی حالت آج کل ہو رہی ہے۔دشمنوں نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ یہ بڑھتا جا رہا 102