تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 101

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء روپیہ کما چکے ہوں وہ اب اپنا بڑھا پا دین کے لئے وقف کر دیں تو چودھری نصر اللہ خاں صاحب مرحوم نے اس پر لبیک کہا اور نہایت اخلاص سے صدر انجمن احمدیہ میں کام کرتے رہے اور وفاداری اور فرمانبرداری سے کام کیا۔ان کو چونکہ میرے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے اس لئے مجھے ان کی قدر ہے اور ان کی اولاد نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے باپ کے لئے بھی مجھے پیاری ہے اور اب کہ ان کا ذکر آیا ہے میں ان کی اولاد کے لئے دعا کرتا ہوں کہ ان کے دل کا متاع کبھی ضائع نہ ہو۔اگر اللہ تعالیٰ انہیں دنیا کی نعمتیں دے تو یہ اس کا فضل ہے لیکن ان کے دل کی غربت ضرور قائم رہے بلکہ بڑھتی رہے کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو دینوی مال و دولت ایک لعنت ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کے سوا جماعت میں اور مخلص نہیں ہیں۔اور بھی بڑے بڑے مخلص ہیں۔ایک سیٹھ عبداللہ بھائی ہیں انہوں نے اتنی مالی قربانیاں کی ہیں کہ وہ پہلے حقیقتا امیر آدمی تھے مگر اب عملاً غریب ہیں، انہوں نے تبلیغ کا بھی بہت کام کیا ہے۔مالی قربانی انہوں نے بالکل ایسی کی ہے جس طرح سیٹھ عبدالرحمن حاجی اللہ رکھا صاحب نے کی تھی لیکن تبلیغی خدمت ان کی ایسی ہے جس کی مثال موجودہ جماعت میں نہیں ملتی انہیں تبلیغ کا جنون ہے ان کے ذریعہ ایسی ایسی جگہوں پر احمدیت پہنچی ہے کہ جہاں اور کوئی نہ پہنچا سکتا۔مجھے دو چار دن ہوئے ایک گریجویٹ رجسٹرار کا ایک ایسے علاقہ سے خط آیا جس کا نام بھی میں نے کبھی نہ سنا تھا اُس نے لکھا کہ میں سکندر آباد آیا تھا وہاں سیٹھ صاحب کے لڑکے یا کوئی رشتہ دار کسی کے ساتھ باتیں کر رہے تھے جو میں نے سنیں۔بعد میں ان کو خط لکھا اور انہوں نے مجھے لٹریچر بھیجا جسے پڑھ کر مجھ پر حق کھل گیا تو ایسے ایسے مقامات پر ان کے ذریعہ تبلیغ پہنچی ہے کہ ہم جہاں نہ پہنچ سکتے تھے۔وہ تبلیغی لٹریچر بہت پھیلاتے ہیں اور اس کام میں وہ اپنی مثال آپ ہی ہیں اور میں سمجھتا ہوں تبلیغ کے میدان میں ایک بھی احمدی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا، وہ جب احمدی ہونے کے قریب تھے تو مجھے ایک دوست نے دعا کیلئے لکھا اور میں نے رویاء دیکھا کہ ایک مکان ہے جس کے صحن میں ایک تخت ہے جس وہ شخص بیٹھا ہے جس کے لئے مجھے دعا کی تحریک کی گئی ہے، اس وقت تک میں نے ابھی سیٹھ صاحب کونہ دیکھا تھا، میں نے دیکھا کہ تہجد کا وقت ہے آسمان میں چھلنی کی طرح سوراخ ہیں جن میں سے خدا کا نور چاروں طرف سے اس شخص پر گرتا ہے۔میں نے اس خواب کی اطلاع اسی وقت دے دی تھی۔اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے خاندان پر خاص فضل فرمائے اور ہمیشہ ان میں دین کی خدمت اور سلسلہ کی اشاعت کا جوش قائم رہے اور ان کے خاندان کے وہ افراد جو احمدیت میں ابھی تک داخل نہیں۔اللہ تعالٰی انہیں بھی احمدیت میں داخل کرے۔پروه 101