تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 94
خطبہ جمعہ فرموده 7 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول پس قادیان اور باہر کی اینٹوں میں فرق ہے۔اس مقام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اسے عزت دیتا ہوں جس طرح بیت الحرم، بیت المقدس یا مدینہ و مکہ کو برکت دی ہے اور اب اگر ہماری غفلت کی وجہ سے اس کی تقدیس میں فرق آئے تو یہ امانت میں خیانت ہوگی اس لئے یہاں کی اینٹیں بھی انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی ہیں اور یہاں کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے اگر ہزاروں احمدیوں کی جانیں بھی چلی جائیں تو پھر بھی ان کی اتنی حیثیت نہ ہوگی جتنی ایک کروڑ پتی کیلئے ایک پیسہ کی ہوتی ہے۔پس قادیان اور قادیان کے وقار کی حفاظت زیادہ سے زیادہ ذرائع سے کرنا ہمارا فرض ہے۔نویں بات اس میں میرے مد نظر یہ ہے کہ جماعت کو ایسے مقام پر کھڑا کر دیا جائے کہ اگلا قدم اٹھا نا سہل ہو۔میں نے اس سکیم میں اس بات کو مد نظر رکھا ہے کہ اگر آئندہ اور قربانیوں کی ضرورت پڑے تو جماعت تیار ہو اور بغیر مزید جوش پیدا کرنے والی تحریکات کرنے کے جماعت آپ ہی آپ اس کے لئے آمادہ ہو۔دسویں بات اس میں میں نے یہ مدنظر رکھی ہے کہ ہماری جماعت کا تعلق صرف ایک ہی حکومت سے نہر ہے۔اب تک ہمارا حقیقی تعلق صرف ایک ہی حکومت سے ہے سوائے افغانستان کے جہاں ہماری جماعت اپنے آپ کو ظاہر نہیں کر سکتی اور احمدی کام نہیں کر سکتے۔باقی سب مقامات پر جہاں جہاں زیادہ اثر رکھنے والی جماعتیں ہیں۔مثلا ہندوستان، نائیجیریا، گولڈ کوسٹ ،مصر، سیلون، ماریشس وغیرہ مقامات پر وہ سب برطانیہ کے اثر کے نیچے ہیں دیگر حکومتوں سے ہمارا تعلق نہیں سوائے ڈچ حکومت کے مگر ڈچ بھی یورپین ہیں اور یورپیوں کا نقطہ نگاہ ایشیائی لوگوں کے بارہ میں جلدی نہیں بدلتا۔ہمیں ایسی حکومتوں سے بھی لگاؤ پیدا کرنا چاہئے جن کی حکومت میں ہم شریک ہوں یا جو ہم پر حکومت کرنے کے باوجود ہمیں اپنا بھائی سمجھیں۔مشرقی خواہ حاکم ہو مگر وہ حکوم کو بھی اپنا بھائی سمجھے گا۔اسی طرح جنوبی امریکہ کے لوگ ہیں انہوں نے بھی چونکہ کبھی باہر حکومت نہیں کی اس لئے وہ بھی ایشیائی لوگوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔پس اس سکیم میں میرے مد نظر ایک بات یہ بھی ہے کہ ہم باہر جائیں اور نئی حکومتوں سے ہمارے تعلقات پیدا ہوں تا ہم کسی ایک ہی حکومت کے رحم پر نہ رہیں۔یوں تو ہم خدا تعالی کے ہی رحم پر ہیں مگر جو حصہ تدبیر کا خدا نے مقرر کیا ہے اسے اختیار کرنا بھی ہمارا فرض ہے اس لئے ہمارے تعلقات اس قدر وسیع ہونے چاہیں کہ کسی حکومت یا رعایا کے ہمارے متعلق خیالات میں تغیر کے باوجود بھی جماعت ترقی کر سکے۔94