تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 91

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء دعوتوں میں بھی تغیر کر دیا ہے۔پس اب ہم ان کے اصول کو صحیح قرار دیتے ہوئے بھی جواب دے سکتے ہیں۔چوتھی بات میں نے یہ مد نظر رکھی ہے کہ سلسلہ کی طرف سے پہلے ہم نے ایک دور سے مقرر کر رکھے تھے اور انہی راہوں سے دشمن پر حملہ کرتے تھے اور باقی کو یہ کہ کر چھوڑ دیتے تھے کہ ابھی اور کی توفیق نہیں مگر اب سکیم میں میں نے یہ بات مد نظر رکھی ہے کہ حملے وسیع ہوں اور بیسیوں جہات سے دشمن پر حملے کئے جائیں۔ہمارے حملے ایک ہی محاذ پر محدودنہ ہوں بلکہ جس طرح دفاع کے لئے ہم مختلف طریق اختیار کریں اسی طرح حملہ کے لئے بھی مختلف محاذ ہوں۔پانچویں بات یہ ہے کہ مغربیت کے بڑھتے ہوئے اثر کو جو دنیا کو کھائے جاتا ہے اور جو دجال کے غلبہ میں محمد ہے اسے دور کیا جائے۔اس سلسلہ میں میں نے عورتوں کی تعلیم کے سلسلہ میں کچھ عرصہ ہوا ایک لیکچر دیا تھا اگر چہ مجھے افسوس ہے کہ ہمارے کارکنوں نے اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور سکول میں لڑکیوں کی تعلیم کو اس طرز پر نہیں بدلا جو میں نے بتائی تھی مگر میں نے اپنے گھر میں اسے رائج کر دیا ہے اور ڑکیوں کو سکول سے ہٹا کر ایسے رنگ میں انہیں گھر پر تعلیم دلانی شروع کر دی ہے کہ تا ایک طرف انگریزی بولنی اور معنی آجائے دوسری طرف دینی تعلیم اور اُردو زبان کی تعلیم زیادہ ہو۔سکولوں میں گون انگریزی اور اس کے لوازمات پر زور دیا جاتا ہے مگر پھر بھی طالبات کو انگریزی بولنی نہیں آتی حالانکہ کسی زبان کے سیکھنے میں اصول یہ ہونا چاہئے کہ طالب علم اس میں گفتگو کر سکے مگر سکولوں کی تعلیم سے یہ غرض حاصل نہیں ہوتی استانیوں کو بھی بولی نہیں آتی تو لڑکیاں کس طرح سیکھیں گی ؟ بلکہ میں نے دیکھا ہے لڑکوں کو بھی انگریزی بولنی نہیں آتی مگر میں نے اپنے گھر میں اس طرز پر تعلیم شروع کرائی ہے کہ انگریزی بولنے کی مشق ہو اور باقی تعلیم دینی ہو۔گوبچوں کی تعلیم پر مجھے ایک بہت بڑی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے کیونکہ کئی استاد اور استانی رکھنی پڑتی ہے اور بوجھ نا قابل برداشت ہوتا ہے مگر مقصود روپیہ سے زیادہ قیمتی ہے اور جب تک ہمارے زنانہ سکول کی حالت نہ بدلے ایسا کرنا پڑے گا۔اس وقت میں نے اس امر کو پھر دوہرا دیا ہے تا لوگوں کو معلوم رہے کہ لڑکیوں کی موجودہ تعلیم کا میں سخت مخالف ہوں تا دوسرے مخلصین اگر صحیح طرزا بھی اختیار نہ کر سکیں تو بھی ان کے دل میں یہ خلش ضرور ہو کہ ہم نے اسے بدلنا ہے۔غرض مغربیت کے اثر کو زائل کرنا بھی اس سکیم میں میرے مد نظر ہے اور جوں جوں وہ زائل ہوتا جائے گا اسلام کی محبت اور اس کا دخل بڑھتا جائے گا اسی لئے میں نے ہاتھ سے کام کرنے اور ایک ہی سالن کھانے کی عادت ڈالنے کی ہدایت کی ہے یہ دونوں باتیں مغربیت کے خلاف ہیں۔91