تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 88
خطبہ جمعہ فرموده 7 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول اگر مٹی پر بھی ہاتھ ڈالتا تو سونا ہو جاتی۔لوگ تجارت کے لئے اسے اس کثرت سے روپیہ دیتے کہ اسے انکار کرنا پڑتا مگر پھر بھی لوگ اس کی ڈیوڑھی میں پھینک کر چلے جاتے۔تو اگر ہوشیاری سے چیز خریدی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ستی نہ ملے۔بعض لوگ جاتے ہیں اور دکاندار سے کہہ دیتے ہیں کہ سستا سودا دینا اور سمجھ لیتے ہیں کہ ستا خریدنے کی ہم نے پوری کوشش کر لی۔یہ سادگی ہے یا بد دیانتی کہ محنت نہ کی اور سمجھ لیا کہ کرلی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک سَابِقُونَ الاَوَّلُون صحابہ تھے جو بہت مخلص تھے مگر بہت سادہ طبیعت تھے وہ آتے وقت آپ کے لئے ضرور کوئی نہ کوئی پھل وغیرہ لے آتے مگر ان کے خریدنے کا طریق یہ تھا کہ دکان پر گئے اور کہا میاں اچھے سیب ہیں؟ اب دکاندار کیوں کہے گا کہ اچھے نہیں ہیں۔وہ کہہ دیتا کہ ہاں بہت اچھے ہیں۔یہ کہتے کیا بھاؤ دو گے؟ وہ اگر کہتا کہ روپیہ کے سولہ تو یہ کہتے کہ بارہ دو مگر اچھے چن کر دے دو میں نے اپنے پیر کے لئے لے جانے ہیں وہ وہی جو سولہ کے حساب سے دیتا اُٹھا کر دے دیتا اور وہ لے آتے۔حالانکہ ان میں اتنی ہی اچھائی ہوتی تھی جتنی کہ اعلیٰ چیز اور اعلیٰ دوکان سے خریدنے میں ہو سکتی تھی۔سولہ سے کم کر کے بارہ لینے میں انہیں کوئی زیادہ اچھی چیز نہ مل جاتی تھی۔پس بے احتیاطی سے سودا خرید نا یا سادگی سے ہوتا ہے یا بد دیانتی سے۔کوشش کر کے اور مختلف دوکانیں پھر کر اگر چیز خریدی جائے تو سستے داموں مل سکتی ہے۔اب میں نے اس سکیم کے متعلق مجموعی طور پر اس کی وہ تفصیلات جو موجودہ حالات میں ضروری ہیں ، سب بیان کر دی ہیں اور اس میں میں نے مندرجہ ذیل امور مدنظر رکھے ہیں۔(۱) یہ کہ جماعت کے اندر اور باہر ایسا ماحول پیدا ہو جائے کہ جس سے جماعت کی ذہنیت اور اقتصادی حالت اچھی ہو جائے۔اچھی ذہنیت کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔اگر کسی شخص کے سامنے اعلیٰ سے اعلیٰ کھانا رکھا ہو مگر وہ یہ سمجھے کہ اچھا نہیں تو مزا نہیں اٹھا سکتا۔جب سے ایک ہی سالن کھانے کی پابندی پر شدت سے عمل شروع کیا ہے، میں نے خود اس کا تجربہ کیا ہے۔پہلے اگر دو سالن کبھی آتے تو کئی دفعہ ایک کو نا پسند اور دوسرے کو پسند کیا کرتا تھا، مگر جب ایک ہی کھانا ہو تو جن نقائص کو دو کی صورت میں زبان محسوس کرتی ہے وہ محسوس نہیں ہوتے کیونکہ جب زبان کو معلوم ہو کہ دوسرا نہیں ملنا تو اعتراض کا مادہ کم ہو جاتا ہے۔پس ذہنیت بڑا بھاری اثر رکھتی ہے۔کوئی غریب آدمی پیدل چلا جارہا ہو اور کوئی کمہارا سے کہے کہ پیدل کیوں چلتے ہو؟ آؤ میرے گدھے پر بیٹھ جاؤ تو اس کا دل باغ باغ ہو جائے گا اور وہ خیال کرے گا کہ 88