تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 89

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء اتنے میل پیدل چلنے سے بچ گئے لیکن اگر کوئی امیر آدمی جار ہا ہو اور اسے غصہ آ رہا ہو کہ نوکر کوگھوڑ الانے کا حکم دیا تھا وہ نہیں لایا یا کسی دوست رشتہ دار کو اطلاع دی تھی کہ فلاں جگہ پرگھوڑا بھیج دینا اور اس نے نہیں بھیجا اور وہی گدھے والا اسے کہے کہ آؤ میرے گدھے پر سوار ہو جاؤ تو وہ بجائے کسی جذ بہ امتنان کے اظہار کے اتنی مغلظات سنائے گا کہ شاید اسے کانوں میں انگلیاں دے لینی پڑیں اور اپنی ذہنیت کے بدلہ میں وہ امیر آدمی گدھے پر چڑھنے کی دعوت کا انکار کرتے کرتے خود گدھا بن جائے گا۔تو ذہن کا اثر بڑی چیز ہے اگر ذہنیت تبدیل ہو جائے تو آدھی لڑائی فتح ہو سکتی ہے۔کسی امیر آدمی کو جو ایک بزرگ سے اخلاص نہیں رکھتا اس کا مستعمل کپڑا دے کر دیکھو کسی قدر ناراض ہوگا لیکن اگر اخلاص ہو اور وہ سمجھے کہ مستعمل کپڑے میں برکت ہوگی تو خود لجاجت کر کے لے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی ایک جنگ میں قید ہو کر مکہ میں پہنچے۔کفار نہیں طرح طرح کے دکھ دیتے تھے اور مار دینے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ایسی حالت میں ان سے کسی نے کہا کہ کیا تمہارے نزدیک اچھا نہ ہوتا کہ تم مدینہ میں آرام سے اپنے گھر میں بیٹھے ہوتے اور تمہاری جگہ یہاں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہوتے ؟ اگر ان صحابی کے دل میں اخلاص نہ ہوتا تو وہ کہتے کہ میرے ایسے نصیب کہاں ؟ مگر انہوں نے جواب دیا کہ تم تو یہ کہتے ہو مگر میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ میں گھر میں آرام سے بیٹھا ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے پاؤں میں مدینہ ہی کی کسی گلی میں کانٹا چبھ جائے ! ہمارے صلى الله پیر ہر اس کانٹے کی جستجو کرتے ہیں جو آپ ﷺ کے پاؤں میں چھنے والا ہو۔غرض ذہنیت کے تغیر سے بہت بڑا تغیر ہو جاتا ہے۔ایک شخص جو پانسور و پیہ ماہوار تنخواہ لیتا ہے اگر تنزل کر کے اس کی تنخواہ چار سو روپے کر دی جائے تو اس کے ہاں ماتم بپا ہو جائے گا اور وہ بے چین ہو جائے گا کہ اب خرچ کیونکر چلے گا؟ لیکن اگر ایک تین سو ماہوار پانے والے کی تنخواہ چار سو کر دی جائے تو وہ اور اس کے گھر والے خوشی سے اچھلتے پھریں گے اور سمجھیں گے کہ اب خوب آرام سے گزر ہوگی۔پس اس سکیم میں اول تو میرے مد نظر یہ بات ہے کہ ذہنیت میں ایسا تغییر کروں کہ جماعت خدمت دین کے لئے تیار ہو جائے اور آئندہ ہمیں جو قدم اٹھانا پڑے اسے بوجھ نہ خیال کیا جائے بلکہ بشاشت کے ساتھ اُٹھایا جا سکے۔ذہنیت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ ماحول کا تغیر بھی میرے مد نظر ہے یعنی اقتصادی حالت کی درستی اور مشقت کی عادت۔میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ جو لوگ عمدہ عمدہ کھانے اور عمدہ لباس پہننے کے عادی ہوں وہ اگر ضرورت پڑے تو باہر خدمت دین کے لئے نہیں جا سکتے۔امیروں کی اولا د عام طور پر نیکی 89