تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 355
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول امانت فنڈ تحریک جدید اقتباس از تقریر فرمودہ 27 دسمبر 1936ء تقریر فرموده 27 دسمبر 1936 ء بر موقع جلسہ سالانہ دوسری چیز تحریک جدید کا امانت فنڈ ہے جس پر اس سال میں خصوصیت کے ساتھ زور دینا چاہتا ہوں۔گزشتہ سال امانت کی رقم پہلے سال سے کم آئی تھی حالانکہ شرط یہ رکھی گئی تھی کہ جو شخص اس امانت فنڈ کے لئے وعدہ کرے گا وہ مسلسل تین سال تک اپنے وعدے کو پورا کرتا چلا جائے گا۔اس لحاظ سے 1935ء میں جو وعدے کئے گئے تھے وہ صرف 1935 ء کے لئے نہیں تھے بلکہ 1935 ء ،1936 ء ، 1937ء کے لئے تھے اور 1937ء کے آخر میں ان کے وعدے ختم ہوتے تھے۔پھر گزشتہ سال کی تحریک پر بعض نئے لوگوں نے بھی وعدے کئے تھے اس لئے چاہئے تھا کہ 1936ء میں زیادہ امانت جمع ہوتی مگر ہوا یہ کہ 1936ء میں امانت فنڈ کی رقم 1935 ء سے بھی کم آئی گو کمی تو بہت قلیل ہے اور صرف دو تین ہزار کے قریب ہے مگر بہر حال یہ کمی نہیں ہونی چاہئے تھی۔پچھلے سال غالباً پچھتر ہزار کے قریب رقم آئی مگر اس چھتر ہزار میں سے دس ہزار کے قریب یکدم آگیا تھا کیونکہ بعض عورتوں نے اس میں حصہ لینے کے لئے اپنے زیورات فروخت کر دیئے تھے اور بعض نے اپنی جائیدادیں بیچ کر اس میں حصہ لیا تھا اس لئے اس دس ہزار کو مستی کرتے ہوئے پینسٹھ ہزار روپیہ جمع ہوا تھا اور اس سال اس وقت تک ساٹھ ہزار کے قریب روپیہ جمع ہوا ہے۔ممکن ہے جلسہ سالانہ کے آخری ایام تک باسٹھ تریسٹھ ہزار روپیہ تک رقم پہنچ جائے مگر بہر حال اس مد میں زیادتی ہونی چاہئے تھی جو افسوس ہے کہ نہیں ہوئی بلکہ کمی ہوئی۔میں اس مد کی تفصیلات کو بیان نہیں کر سکتا صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ اس کے دو نقطہ نگاہ ہیں میں نے کئی دفعہ سُنایا ہے کہ جب فتح حسنین ہوئی اور مکہ والوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے گلے اور بھیٹروں اور بکریوں کے ریوڑ تقسیم کر دیئے تو بعض حدیث العہد نو جوانوں کو جو انصار میں سے تھے شکوہ پیدا ہوا اور ایک نے اُن میں سے کہا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رشتہ داروں میں بانٹ دیا۔آپ ﷺ کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو آپ یا اللہ نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا اے انصار! مجھے تمہارے متعلق یہ رپورٹ پہنچی ہے وہ رو پڑے اور انہوں نے کہا یا رسول الله الا الله! صلى الله 355