تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 307

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936 ء ساتھ چلتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے پچھلے سال موجودہ سال کی نسبت زیادہ لوگوں کے وعدے پورے ہوئے تھے۔چنانچہ ابھی میں نے نقشہ منگوا کر دیکھا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے سال آج کے دن تک 74 ہزار روپیہ وصول ہو چکا تھا مگر اس سال آج کے دن تک تریسٹھ ہزار روپیہ وصول ہوا ہے حالانکہ اس سال گزشتہ سال کی نسبت وعدے زیادہ تھے۔اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک سالہ مومن تھکنے لگ گئے ہیں اور اگلے سال کی تحریک میں جو دو سالہ مومن ہوں گے وہ تھک کر الگ ہو جائیں گے اور پھر پہلی تحریک جدید کے بعد جب دوسرا قدم اُٹھایا جائے گا تو وہ جو سہ سالہ مومن ہوں گے وہ گرنے لگ جائیں گے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے دین کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں آجائے گا جو خدا تعالیٰ کے ساتھ شرطیں باندھنے کے عادی نہیں ہوتے تب اس وقت فرشتے نازل ہوں گے اور آدمی نہیں بلکہ فرشتے لڑائی کر کے دنیا کو دین کے لئے فتح کریں گے۔ہاں جیسا کہ قرآن کریم میں منافقوں کا حال لکھا ہے جب دنیا فتح ہو جائے گی اور اسلام کی حکومت عالم پر قائم ہو جائے گی اس وقت یک سالہ مؤمن اور دوسالہ مومن اور سہ سالہ مومن سب جمع ہو کر آجائیں گے اور کہیں گے ہم بھی مومن ہیں ہمیں بھی فتوحات میں شامل کیا جائے مگر خواہ وہ دنیا کی چیزیں لے لیں خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوسکتا۔دنیا کی بادشاہت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے نائین سے چھین کر یزید نے لے لی مگر کیا خدا تعالیٰ کے حضور بھی یزید کوکوئی بادشاہت ملی؟ یزید کا نام اس دنیا میں بھی جہنم کے دروازہ پر لکھا ہوا ہے کجا یہ کہ آخرت میں اسے کوئی انعام حاصل ہو۔پس دنیا کا حصہ گوا ایسے لوگوں کو مل جائے مگر آخرت میں انہیں کوئی حصہ نہیں مل سکتا کیونکہ آخرت میں انہی کا حصہ ہے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ شرطیں نہیں کرتے۔پس میں جماعت کو آج یہ توجہ دلانے کے لئے آیا ہوں کہ تحریک جدید کے ذریعہ ان کا امتحان ہو رہا ہے فیل ہونے والے فیل ہورہے ہیں اور کامیاب ہونے والے کامیاب ہو رہے ہیں۔وہ جو اُمید کرتے ہیں کہ اب ان کے لئے کوئی آرام کا سانس ہے وہ غلطی پر ہیں اگر بندوں کے ہاتھ سے ان کا امتحان نہیں ہوگا تو خدا خودان کا امتحان لے گا لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ چاہتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مخلصوں اور کمزوروں اور منافقوں کو جدا جدا کر دیا جائے۔میں نے تحریک جدید میں جو امور پیش کئے تھے اگر جماعت ان پر عمل کرتی تو ہر سال پہلے سے زیادہ چندہ آتا اور زیادہ چندہ دینے کی طاقت ان میں پیدا ہوتی۔میں نے کہا تھا کہ اپنے اخراجات کم کرو اور اخراجات میں کمی کر کے جور تم تمہارے پاس بچے وہ اسلام کی ترقی کے لئے دو اور اخراجات میں کمی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کرو جسے دو ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ ملتی ہے وہ اپنے اخراجات کے لحاظ سے کمی 307