تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 239
تحریک جدید- ایک ابھی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 20 دسمبر 1935ء بانسریاں بجنی شروع ہو جائیں گی، کہیں سارنگیاں اور پھر طبلے بجنے لگ جائیں گے یہاں تک کہ اسے ان چیزوں کی عادت ہو جائے گی اور ان سے پیچھے ہٹانا اس کے لئے ناممکن ہو جائے گا وہ بظاہر ایک آوارہ ہوگا مگر در حقیقت وہ مریض ہو گا طاعون کا، وہ مریض ہوگا ہیضے کا جو نہ صرف خود ہلاک ہوگا بلکہ ہزاروں اور قیمتی جانوں کو بھی ہلاک کرے گا پھر اس سے متاثر ہونے والے متعدی امراض کی طرح اور لوگوں کو متاثر کریں گے اور وہ اور کو یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ملک کا کثیر حصہ اس لعنت میں گرفتار ہو جائے گا۔پس بے کاری ایسا مرض ہے کہ جس علاقہ میں یہ ہو اس کی تباہی کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔پہلا بے کا راس لئے بنا تھا کہ اس کے والدین نے اس کے لئے کام مہیا نہ کیا لیکن دوسرے بے کار اس لئے بنیں گے کہ وہ ایک بے کار سے متاثر ہو کر اس کے رنگ میں رنگین ہو جائیں گے اور اس کی بد عادات کو اپنے اندر پیدا کر کے اپنی زندگی کا مقصد یہی سمجھیں گے کہ کہیں بیٹھے تو گالیا، کہیں سر مارلیا ، کہیں تاش کھیل لی، کہیں شطرنج کھیل لیا، کہیں جوا کھیلنے لگ گئے۔غرض بے کاروں کی تمام تر کوشش ایسے ہی کاموں کے لئے ہوگی جو نہ ان کے لئے مفید نہ سلسلہ کے لئے اور نہ مذہب کے لئے۔پھر اقتصادی لحاظ سے بھی بے کاری ایک لعنت ہے اور اسے جس قدر جلد ممکن ہو دور کرنا چاہئے ہمارے ملک کی آمد پہلے ہی چھ پانی فی کس ہے اور یہ ہر شخص کی آمد نہیں بلکہ کروڑ پتیوں کی آمد ڈال کر اوسط نکالی گئی ہے اور ان لوگوں کی آمد ڈال کر نکالی گئی ہے جن کی دو تین لاکھ روپیہ ماہوار آمد ہے ورنہ اگر ان کو نکال دیا جائے تو ہمارے ملک کی آمد فی کس تین پائی رہ جاتی ہے جس ملک کی آمدنی کا یہ حال ہو اس میں سمجھ لو کتنے بے کار ہوں گے؟ اگر ملک کے تمام افراد کام پر لگے ہوئے ہوتے تو یہ حالت نہ ہوتی لیکن اب تو یہ حال ہے کہ اگر کوئی دو آنے کماتا ہے تو اس پر اتنے بے کاروں کا بوجھ ہوتا ہے کہ اپنے لئے اس کی آمد دمڑی رہ جاتی ہے اور جو زیادہ کماتا ہے اس کی آمد پر بھی اثر پڑتا ہے تو بے کاروں کی وجہ سے ایک تو دوسرے لوگ ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ بے کار ان کے لئے بوجھ بنتے ہیں۔دوسرے جب ملک میں ایک طبقہ ایسا ہو جو آگے نہ بڑھنے والا ہو تو دوسرے لوگوں کا قدم بھی ترقی کی طرف نہیں بڑھ سکتا کیونکہ بے کار مزدوری کو بہت کم کر دیتے ہیں۔بے کار شخص ہمیشہ عارضی کام کرنے کا عادی ہوتی ہے اور جب کسی کی بے کاری حد سے بڑھتی اور وہ بھوکوں مرنے لگتا ہے تو مزدوری کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے لیکن چونکہ اسے سخت احتیاج ہوتی ہے اس لئے اگر ایک جگہ مزدور کو چار آنے مل رہے ہوں تو یہ دو آنے لے کر بھی وہ کام کر دے گا اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سارے مزدوروں کی اجرت دو آنے ہو جائے گی اور لوگ کہیں گے کہ جب ہمیں دو دو آنے پر مزدور مل جاتے ہیں تو ہم چار آنے مزدوری 239