تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 30
30 حمد والی آیات پر حمد کریں عذاب والی آیات پر خشیت اختیار کریں حضور انور نے فرمایا: پھر اور بہت ساری سورتیں ہیں جن کی آپ باقاعدگی سے تلاوت کیا کرتے تھے جن میں قوموں کی تباہی، ان میں شرک رائج ہونے اور توحید سے پرے ہٹنے یا قیامت کے آنے وغیرہ کا ذکر ہے۔پھر ایسی سورتیں جن میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور توحید کا ذکر ہے، نیکیوں پر قائم ہونے کا ذکر ہے، برائیوں سے بچنے کا ذکر ہے۔آپ کے مقام کا ذکر ہے ، آخرین کے زمانے کا ذکر ہے، قربانیوں کا ذکر ہے، جن میں مالی قربانیوں اور جانی قربانیاں ہیں اور پھر یہ آپ کو نصیحت کہ آپ تو صرف نصیحت کرتے چلے جائیں، آپ کا کام نصیحت کرنا ہے، تو یہ سورتیں بھی بہت سی ہیں جس کی تلاوت آپ اکثر کیا کرتے تھے بلکہ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ روزانہ پڑھا کرتے تھے، اور یہ تو ہم پہلی روایات میں دیکھ ہی آئے ہیں کہ آپ کے پڑھنے کا طریق کیا تھا۔عذاب کی آیات یا الفاظ جہاں بھی آتے تھے آپ کانپ جایا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی خشیت غالب آجایا کرتی تھی ، اور پھر یقینا آپ اسی صورت میں امت کے لئے دعائیں بھی کرتے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کے انعامات والی آیات سن کر، پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے تھے۔غرض کہ عجیب انداز تھا، عجیب اسلوب تھا آپ کا قرآن کریم پڑھنے کا اور سمجھنے کا اور تلاوت کرنے کا۔ایک روایت میں آتا ہے۔عبد اللہ بن مغفل کی روایت ہے کہ میں نے فتح مکہ کے دن رسول صلی یتیم کو ایک اونٹ پر سوار سورۃ الفتح پڑھتے دیکھا۔آپ بار بار ہر آیت کو دوہراتے تھے۔(سنن ابی داؤر - كتاب الوتر باب استحباب الترتيل في القراءة حديث نمبر 1464)