تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 29

29 29 ایسی توجہ سے نہیں سنتا جیسے قرآن کو سنتا ہے جب پیغمبر اس کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھے۔(سنن ابی داؤد کتاب الوتر باب استجاب الترتيل في القراءة حديث نمبر 1470 ) تو اللہ تعالیٰ کی اپنے پیارے نبی پر جو نظر ہے اس وقت پہلے سے بھی بڑھ جاتی ہے، جب وہ اپنا کلام اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے خوش الحانی سے سنتا ہے کہ دیکھو میرا پیارا میرے کلام کو کس خوف کس خشیت اور کس محبت کے ساتھ مکمل طور پر اس میں فنا ہوکر پڑھ رہا ہے۔پھر حضرت حذیفہ سے ایک روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔جب آپ رکوع کرتے تو سبحَانَ رَبِّيَ الْعَظیم پڑھتے اور جب سجدہ کرتے تو سُبحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلیٰ پڑھتے۔اور جب کوئی رحمت کی آیت آتی تو آپ رک جاتے ، تلاوت کے وقت اور رحمت طلب کرتے ، اور جب کوئی عذاب کی آیت آتی تو آپ رک جاتے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے۔(سنن ابی داؤد - كتاب الصلاة باب ما يقول الرجل في ركوعه و سجوده) اور بعض روایتوں میں آتا ہے کہ یہ رحمت اور پناہ طلب کرتے وقت بعض دفعہ آپ کی روتے روتے ہچکی بندھ جایا کرتی تھی۔آپ میں اللہ تعالیٰ کی خشیت اور پیار او تعلق اور محبت اس طرح تھا کہ جس کو تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ہے۔پھر حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ ابو بکر نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ میں بڑھاپے کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔اس پر رسول اللہ نے فرمایا مجھے سورۃ ھود،سورۃ واقعہ سورۃ المرسلات اور عم يتساءلون اور واذا الشمس کورت ،سورۃ تکویر وغیرہ نے بوڑھا کر دیا ہے۔( ترمذی کتاب تفسير القرآن باب و من سورة الواقعة حديث 3297)