تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 26
26 26 حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں نماز فجر پڑھائی آپ نے سورۃ مومنون سے تلاوت شروع کی۔یہاں تک کہ جب موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا ذکر آیا۔۔۔۔تو شدت خشیت الہی کے باعث آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی شروع ہوگئی۔اس پر آپ نے رکوع کیا۔(مسلم، کتاب الصلوۃ، باب القراءة في الصبح ) تو یہ خشیت اس حد تک تھی کہ اپنی قوم کی بھی ساتھ یقینا فکر ہوگی۔کیوں کہ آپ کا دل تو انتہائی نرم تھا جس طرح فرعون اور اس کی قوم تباہ ہوئے یہ لوگ بھی کہیں انکار کی وجہ سے تباہ نہ ہو جائیں۔اس بات پر اتنا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ ذکر کیا ہے، جو مثالیں دی ہیں تو انکار کی وجہ سے آئندہ بھی ایسے واقعات ہو سکتے ہیں۔تو کہیں میری قوم بھی اس انکار کی وجہ سے تباہ نہ ہو جائے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ مجھے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت { وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضَ جَمِيْعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَالسَّمَوْتُ مَطْوِيتْ بِيَمِيْنِهِ سُبْحَنَهُ وَ تَعْلَى عَمَّا يُشْرِكُون} (الزمر: 68) کے بارے میں دریافت کیا۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا اور قیامت کے دن زمین تمام تر اس کے قبضہ میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لیٹے ہوئے ہوں گے۔تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جبار ہوں، میں یہ ہوں، میں یہ ہوں۔اللہ تعالیٰ اپنی بزرگی بیان کرتا ہے،۔راوی کہتے ہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات اس جوش سے بیان کر رہے تھے کہ منبر رسول اس طرح ہل رہا تھا کہ ہمیں اس بات کا خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں منبر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لئے ہوئے گر نہ (الدر منثور - تفسير سورة الزمر زیر آیت نمبر 68) پڑے۔