تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 16
16 تین دن سے کم عرصے میں قرآن کریم کو ختم کیا اس نے قرآن کریم کا کچھ نہیں سمجھا۔( ترمذی ابواب القراءة )۔بعض لوگوں کو بڑا فخر ہوتا ہے کہ ہم نے اتنے دن میں، ایک دن میں یا دو دن میں سارا قرآن کریم ختم کر لیا۔یا ہم نے اتنے منٹ میں سپارے ختم کر دیئے یا اتناسپارہ ختم کر دیا۔بلکہ رمضان کے دنوں میں تو پاکستان میں (اور جگہوں پہ بھی ہوگا) غیروں کی مسجدوں میں مقابلہ ہوتا ہے کہ کون جلدی تراویح پڑھاتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ہماری یو نیورسٹی کا کا رکن تھا۔بڑا نمازی غیر از جماعت ، وہ بتاتا تھا کہ میں آج فلاں مسجد میں گیا وہاں فلاں مولوی بڑا اچھا ہے اس نے تو تین منٹ میں دو رکعت نماز پڑھا دی اور آٹھ رکعتوں میں قرآن کریم کا ایک پارہ ختم کر دیا۔تو جب اسے پوچھو کہ کچھ سمجھ بھی آئی ؟ سمجھ آئی یا نہ آئی اس نے بہر حال قرآن کریم پڑھ دیا تھا۔وہ ہی ہمارے لئے کافی ہے۔حالانکہ حکم یہ ہے کہ قرآن کریم غور سے اور سمجھ کر پڑھو، ٹھہر ٹھہر کر ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن کریم خوش الحانی سے اور سنوار کر نہیں پڑھتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔(ابوداؤد کتاب الصلوة باب كيف يستحب الترتيل في القراءة) تو یہ مزید کھل گیا کہ ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھنا چاہئے۔انسان کو چاہئے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے اور کس طرح پڑھنا چاہئے؟ اس کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرماتے ہیں کہ : ” انسان کو چاہئے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے۔جب اس میں دعا کا مقام آوے تو دعا کرے اور خود بھی خدا سے وہی چاہے جو اس دعا میں