تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 12
12 یاد رکھو قرآن کریم حقیقی برکات کا سرچشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے۔یہ ان لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآن کریم پر عمل نہیں کرتے۔عمل نہ کرنے والوں میں ایک گروہ تو وہ ہے جس کو اس پر اعتقاد ہی نہیں۔اور وہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے۔یہ لوگ تو بہت دور پڑے ہوئے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور نجات کا شفا بخش نسخہ ہے، اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے۔ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں کبھی اسے پڑھا ہی نہیں۔پس ایسے آدمی جو خدا تعالیٰ کے کلام سے ایسے غافل اور لا پرواہ ہیں ان کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص کو معلوم ہے کہ فلاں چشمہ نہایت ہی مصطفی اور شیر میں اور خنک ہے اور اس کا پانی بہت سے امراض کے واسطے اکسیر اور شفا ہے۔یہ علم اس کو یقینی ہے لیکن باوجود اس علم کے اور باوجود پیاسا ہونے اور بہت سی امراض میں مبتلا ہونے کے وہ اس کے پاس نہیں جاتا تو یہ اس کی کیسی بدقسمتی اور جہالت ہے۔اسے تو چاہئے تھا کہ اس چشمے پر منہ رکھ دیتا اور سیراب ہو کر اس کے لطف اور شفا بخش پانی سے حظ اٹھاتا۔مگر باوجود علم کے اس سے ویسا ہی دور ہے جیسا کہ ایک بے خبر۔اور اس وقت تک اس سے دور رہتا ہے جو موت آ کر خاتمہ کر دیتی ہے۔اس شخص کی حالت بہت ہی عبرت بخش اور نصیحت خیز ہے۔مسلمانوں کی حالت اس وقت ایسی ہی ہو رہی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ساری کامیابیوں کی کلید یہی قرآن شریف ہے جس پر ہم کو عمل کرنا چاہئے ،مگر نہیں۔اس کی پروا بھی نہیں کی جاتی۔ایک شخص جو نہایت ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ اور پھر نری ہمدردی ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم اور ایماء سے اس طرف بلاوے تو اسے کذاب اور دجال کہا جاتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا قابل رحم