تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 73
73 تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔یہی بات سچ ہے۔افسوس ان لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اُس پر مقدم رکھتے ہیں۔تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سرچشمہ قرآن میں ہے۔کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔تمہارے ایمان کا مصد ق یا مکذب قیامت کے دن قرآن ہے۔اور بجزر قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلا واسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے۔( یعنی قرآن کے واسطے کے بغیر کوئی اور تمہیں ہدایت نہیں دے سکتا ) ”خدا نے تم پر بہت احسان کیا ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ کتاب جو تم پر پڑھی گئی اگر عیسائیوں پر پڑھی جاتی تو وہ ہلاک نہ ہوتے۔اور یہ نعمت اور ہدایت جو تمہیں دی گئی اگر بجائے تو ریکے یہودیوں کو دی جاتی تو بعض فرقے ان کے قیامت سے منکر نہ ہوتے۔پس اس نعمت کی قدر کرو جو تمہیں دی گئی۔یہ نہایت پیاری نعمت ہے۔یہ بڑی دولت ہے۔اگر قرآن نہ آتا تو تمام دنیا ایک گندے مضغہ کی طرح تھی۔قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدایتیں بیچ ہیں۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 26-27) پس یہ توقعات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک احمدی سے ہیں۔قرآن کریم کے تمام احکامات کی پیروی کی کوشش ہی ہے جو ہمیں نجات کی راہیں دکھانے والی ہے۔اس کے لئے ایک لگن کے ساتھ ، ایک تڑپ کے ساتھ ہم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے۔اگر ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ تقویٰ کے راستوں کی تلاش ہم نے کرنی ہے اور اسی مقصد کے لئے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے تو پھر یہ تقویٰ انہی راستوں پر چل کر ہی ملے گا جن پر آنحضرت سالی یتیم کے صحابہ چلے تھے۔اگر ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم نے زمانے کے امام کو مان کر دنیا میں ایک پاک تبدیلی پیدا کرنی ہے اور ایک