تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 62
29 62 کر دیا کیونکہ اس حکم کے رو سے بڑی بھاری ذمہ داری میرے سپرد ہوئی ہے۔اپنے آپ کو سیدھا کرنا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پوری فرمانبرداری جہاں تک انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتی ہے ممکن ہے کہ وہ اس کو پورا کرے۔لیکن دوسروں کو ویسا ہی بنانا آسان نہیں ہے۔اس سے ہمارے نبی کریم کی بلندشان اور قوت قدسی کا پتہ لگتا ہے۔چنانچہ آپ نے اس حکم کی کیسی تعمیل کی۔صحابہ کرام کی وہ پاک جماعت تیار کی کہ ان کو كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( سورة آل عمران آیت نمبر (111) کہا گیا اور رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (المائدہ : 120 ) کی آواز ان کو آ گئی۔آپ کی زندگی میں کوئی بھی منافق مدینہ طیبہ میں نہ رہا۔غرض ایسی کامیابی آپ کو ہوئی کہ اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعات زندگی میں نہیں ملتی۔اس سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ تھی کہ قیل و قال ہی تک بات نہ رکھنی چاہئے“۔(صرف زبانی جمع خرچ نہ ہو) ” کیونکہ اگر نرے قیل و قال اور ریا کاری تک ہی بات ہو تو دوسرے لوگوں اور ہم میں پھر امتیاز کیا ہوگا اور دوسروں پر کیا شرف؟“۔(الحام - جلد 5 نمبر 29۔مورخہ 10 راگست 1901 صفحہ 1) ( تفسیر حضرت مسیح موعود، سورة هود زیر آیت 113، جلد دوم صفحه 704-705) پس آج یہ سبق ہمارے لئے بھی ہے کہ قیل وقال تک بات نہ رہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سمجھ کر اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کی جائے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔جیسا کہ ایک جگہ فرمایا کہ وَهَذَا كِتَابَ أَنزَلْنَهُ مُبَارَكَ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الانعام : 156) اور یہ مبارک کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے۔پس اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم رحم کئے جاؤ۔