تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 32

32 ان کا بھی اس وقت احترام ہے شہید تو سارے ہیں لیکن قرآن زیادہ جاننے والے کو مقدم رکھو۔قرآن کریم سے عشق و محبت تو آپ کو تھا ہی کیونکہ آپ پر نازل ہوا تھا۔جس کے اعلیٰ معیاروں کا مقابلہ کرنا تو ممکن نہیں ہے ہاں یہ معیار حاصل کرنے کے لئے حتی المقدور اپنی کوشش کرنی چاہئے۔کیوں کہ آپ کو ہر اس شخص سے محبت تھی جو قرآن کریم عمدگی سے پڑھا کرتا تھا اور اس کو یاد کیا کرتا تھا۔آنحضرت سل امام صحابہ سے قرآن سننا پسند فرماتے تھے قرآن کریم کو پڑھنے شوق سے پڑھنے اور یاد کرنے کا شوق پیدا کرنے کے لئے آنحضرت صلی الی یوم صحابہ سے قرآن سنا بھی کرتے تھے۔۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔راوی کہتے ہیں میں نے عرض کی کیا میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں؟ حالانکہ آپ پر قرآن کریم نازل کیا گیا ہے۔آنحضور نے میرا جواب سن کر فرمایا : میں یہ پسند کرتا ہوں اپنے علاوہ کسی اور سے بھی قرآن کریم سنوں۔تو حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سورۃ نساء کی تلاوت کرنا شروع کی یہاں تک کہ میں آیت { فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَ جِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} (النساء: 42) پر پہنچا تو آنحضور نے فرمایا ٹھہر جاؤ۔حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔(بخاری۔کتاب فضائل القرآن باب قول المقرئ للقارئ حسبک) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ پس کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور ہم تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔تو آپ کو اپنی اس گواہی پر اللہ کے حضور اپنے اس مقام کا سن کر ایک خشیت کی کیفیت طاری ہوگئی تھی اور پھر یہ کہ میری اس