تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 24

24 بارے میں حضرت عائشہ کا مشہور جواب ہر ایک کے علم میں ہے کہ جب آپ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خُلق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے۔پوچھنے والے نے کہا: کیوں نہیں۔تو انہوں نے فرمایا کہ فَاِنَّ خُلُقَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرآن ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن ہی تھے۔(مسلم، کتاب صلاة المسافرين باب جامع صلاة الليل ومن نام عنه او مرض حدیث نمبر 1739) یعنی قرآن کریم میں جس طرح لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کی۔قرآن کریم میں جس طرح لکھا ہے کہ حقوق العباد ادا کرو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق العباد ادا کئے۔قرآن کریم میں جن باتوں کو کرنے کا حکم دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں اور حکموں پر مکمل طور پر عمل کیا، ان کو بجالائے ، ان کی ادائیگی کی۔قرآن نے جن باتوں سے رکنے کا حکم دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں کو ترک کیا۔قرآن کریم نے روزوں کا حکم دیا،صدقات کا حکم دیا، زکوۃ کا حکم دیا۔آپ نے روزوں صدقات اور زکوۃ کے اعلیٰ ترین معیار قائم کر دئے۔قرآن کریم نے معاشرے میں لوگوں کے ساتھ نرمی کی وہ انتہا کی جس کی مثال نہیں مل سکتی۔اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف فرما دیا۔اگر اللہ تعالیٰ نے اصلاح معاشرہ کے لئے سختی کا حکم دیا تو آپ نے اس کی بھی پوری اطاعت وفرمابرداری کی۔غرض کون سا حکم ہے قرآن کریم کا جس کی آپ نے نہ صرف پوری طرح بلکہ اعلیٰ ترین معیار قائم کرتے ہوئے تعمیل نہ کی ہو۔قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو موتی ہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم