تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 88 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 88

88 زمانے کے امام آنحضرت سلیم کے عاشق صادق اور خدا تعالیٰ کے فرستادے کی آواز سننے کی طرف توجہ دیں گے۔جو عین قرآنی تعلیم کے مطابق دنیا کو ہدایت اور حق کی طرف دعوت دے رہا ہے۔آج اگر کوئی حفاظت قرآن کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہے تو وہ یہی مسیح موعود ہے اور آج اگر کوئی جماعت یہ کام احسن رنگ میں سرانجام دے سکتی ہے اور دے رہی ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہے۔جس کے لئے ہمیں پہلے سے بڑھ کر کمر بستہ ہونے کی ضرورت ہے۔جس کے لئے ہمیں اپنی دعاؤں میں شدت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ ہم اپنے فرائض سے کوتاہی کر رہے ہوں گے یا کوتاہی کرنے والے بن رہے ہوں گے۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کی عملی تصویر بننے کے لئے اپنی استعدادوں کے لحاظ سے بھی بھر پور کوشش کرے۔قرآن کریم کی حفاظت کا دائمی وعدہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف میں یہ وعدہ تھا کہ خدا تعالیٰ فتنوں اور خطرات کے وقت میں دینِ اسلام کی حفاظت کرے گا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر:١٠) سوخدا تعالیٰ نے بموجب اس وعدہ کے چار قسم کی حفاظت اپنے کلام کی کی۔اول: حافظوں کے ذریعہ سے اس کے الفاظ اور ترتیب کو محفوظ رکھا اور ہر ایک صدی میں لاکھوں ایسے انسان پیدا کئے جو اس کی پاک کلام کو اپنے سینوں میں حفظ رکھتے ہیں۔ایسا حفظ کہ اگر ایک لفظ پوچھا جائے تو اس کا اگلا پچھلا سب بتا سکتے ہیں اور اس طرح پر قرآن کو تحریف لفظی سے ہر ایک زمانہ میں بچایا۔دوسرے: ایسے ائمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا