تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 59
59 قرآن کریم کو پڑھنے والے ہی عقل والے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کتب اَنْزَلْنَهُ إِلَيْكَ مُبَرَكَ لِيَدَّبَّرُوْا أَيَتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أوْلُوا الْأَلْبَابِ ( سورة ص: 30) یہ کتاب ہے جسے ہم نے تیری طرف نازل کیا، مبارک ہے تا کہ یہ لوگ اس کی آیات پر تدبر کریں اور تاکہ عقل والے نصیحت پکڑ لیں۔پس قرآن شریف کو ماننے والے اور اس کو پڑھنے والے ہی عقل والے ہیں۔کیوں عقل والے ہیں؟ اس لئے کہ اس کتاب میں تمام سابقہ انبیاء کی تعلیم کی وہ باتیں بھی آجاتی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ قائم رکھنا چاہتا تھا، جو صحیح باتیں تھیں اور اس زمانے کے لئے ضروری تھیں۔اور موجودہ اور آئندہ آنے والی تعلیم یا ان باتوں کا بھی ذکر ہے جو ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے سمجھا کہ یہ تاقیامت انسان کے لئے ضروری ہیں اور وہ آنحضرت سلیپ تم پر نازل فرمائیں۔پس اس اعلان پر جو قرآن کریم نے کیا ہے غور کرو۔نصیحت پکڑو اور عقل والوں کا یہی کام ہے۔اس اعلان کا ہم تبھی چر چا کر سکتے ہیں جب اس تعلیم کو ہم خود بھی اپنے اوپر لاگو کرنے والے ہیں۔قرآن کریم کو غور سے سنو اور خاموش رہو پھر تلاوت کے بارہ میں کہ کس طرح سننی چاہئے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهُ وَاَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الاعراف:205) اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔قرآن کریم کا یہ احترام ہے جو ہر احمدی کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے اور اپنی اولاد میں بھی اس کی اہمیت واضح کرنی چاہئے۔بعض لوگ بے احتیاطی کرتے ہیں۔تلاوت کے وقت اپنی باتوں میں مشغول ہوتے ہیں۔بعض دفعہ بعض گھروں میں ٹی وی لگا ہوتا ہے اور تلاوت آ رہی ہوتی