تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 55
55 55 فرمائی ہے۔آج تو شاید یہ مضمون ختم نہ ہو سکے یعنی وہ حصہ جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ ختم نہ ہو سکے ورنہ تو قرآن کریم ایک ایسا سمندر ہے کہ انسان اس کو بیان کرنا شروع کرے تو کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتا۔اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ہر انسان جب اس پر غور کرتا ہے تو نئے سے نئے نکات آتے چلے جاتے ہیں۔قرآن کریم پڑھنے کے آداب سب سے پہلے تو یہ ہے کہ قرآن کریم پڑھنے کے آداب کیا ہیں اور قرآن کریم کو پڑھنے سے پہلے کس طرح ذہن کو صاف کرنا چاہئے۔اس بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيم (النحل: 99)۔پس جب تو قرآن پڑھے تو دھتکارے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ انسان کو تقویٰ کی راہ سے ہٹانے کے لئے شیطان نے ایک کھلا اعلان کیا ہے، ایک چیلنج دیا ہوا ہے اور قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کا ہر ہر لفظ خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ، تقویٰ پر قائم کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والے راستوں کی راہنمائی کرنے والا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے قرب کے معیاروں کو حاصل کرنا چاہتے ہو، اور اس تعلیم کو سمجھنا چاہتے ہو جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے تو قرآن کریم پڑھنے سے پہلے خالص ہو کر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان کے وسوسوں اور حملوں سے بچائے اور اس تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق دے جو تم پڑھ رہے ہو۔کیونکہ یہ ایسا بیش قیمت خزانہ ہے جس تک پہنچنے سے روکنے کے لئے شیطان ہزاروں روکیں کھڑی کرے گا اور اگر شیطان سے بچنے کی دعانہ کی تو تمہیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ کس وقت شیطان نے کس طرف سے تمہیں اللہ تعالیٰ کے پیغام کو سمجھنے سے روک دیا ہے۔باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے لیکن شیطان کی گرفت میں آنے کی