تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 56
56 50 وجہ سے اس کلام کو پڑھنے سے تمہاری راہنمائی نہیں ہو سکے گی۔پس پہلی بات تو یہ کہ قرآن کریم کو خالص اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ کر پڑھو ورنہ سمجھ نہیں آئے گی۔اس لئے ایک جگہ فرمایا کہ وَلَا يَزِيدُ الظَّلِمِيْنَ اِلَّاخَسَارً ) بنى اسرائيل: 3 8) کہ ظالموں کو قرآن کریم خسارے میں بڑھاتا ہے حالانکہ مومنوں کے لئے یہی نفع رساں ہے۔قرآن کریم جتنا میسر ہو پڑھ لیا کرو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ عَلِمَ أَنْ لَّنْ تَحْصُوْهُ فَتَابَ ط عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُ وَا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ عَلِمَ أَنْ سَيَكُوْنَ مِنْكُمْ مَّرْضَى وَأَخَرُوْنَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ (المزمل : 21) یعنی اور اللہ رات اور دن کو گھٹاتا بڑھاتا رہتا ہے۔(اس سے پہلے کا حصہ میں چھوڑ رہا ہوں )۔اور وہ جانتا ہے کہ تم ہرگز اس طریق کو نبھا نہیں سکو گے۔پس وہ تم پر عفو کے ساتھ جھک گیا ہے۔پس قرآن میں سے جتنا میسر ہو پڑھ لیا کرو۔وہ جانتا ہے کہ تم میں سے مریض بھی ہوں گے اور دوسرے بھی جو زمین پر اللہ کا فضل چاہتے ہوئے سفر کرتے ہیں۔اور پھر اس کے آگے بھی کچھ ہدایات ہیں۔اس حصے سے پہلے آیت میں تہجد کے نوافل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس میں قرآن کا حصہ جو بھی یاد ہو پڑھو اور اس کے علاوہ بھی جتنا قرآن کریم تم غور کرنے کے لئے پڑھ سکتے ہو تمہیں پڑھنا چاہئے۔ایک مومن کا یہی کام ہے۔تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرآن سے صرف یہ مطلب ہی نہیں لینا چاہئے کہ جو ہمیں یاد ہے کافی ہے وہی پڑھ لیا اور مزید یاد کرنے کی کوشش نہیں کرنی۔یا جس تعلیم کا علم ہے وہی کافی ہے اور ہم نے مزید نہیں سیکھنی۔بلکہ جہاں تک ممکن ہو اس میں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔