تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 40
40 ہے۔فرمایا: ” تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیت رحمت پر گزر ہو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تدبر و غور سے پڑھنا چاہئے اور اس پر عمل کیا جاوے“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 157 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ اسلوب ہے جو حضرت مسیح موعود نے ہمیں قرآن کریم پڑھنے کے بارے میں بتا دیا۔اور جیسا کہ میں نے کہا یہ بھی ممکن ہے جب اس کا ترجمہ آتا ہو گا۔اب بہت سے ایسے ہیں جن کی تلاوت بہت اچھی ہے۔دل کو بھاتی ہے لیکن صرف آواز اچھی ہونا ان پڑھنے والوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی جب تک کہ وہ اس کو سمجھ کر نہ پڑھیں۔کسی بھی اچھی آواز کی تلاوت اس شخص کو تو فائدہ پہنچا سکتی ہے جو اچھی آواز میں یہ تلاوت سن رہا ہو اور اس کا مطلب بھی جانتا ہے۔جب پیشگوئیوں کے بارے میں سنتا ہے اور پھر اپنے زمانے میں انہیں پوری ہوتی دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنتا ہے کہ اس زمانے کی پیشگوئیوں کو پورے ہونے کے نظارے دیکھے۔اور اس پر پھر مستزاد یہ کہ ایک احمدی شکر گزاری کرتا ہے جس مسیح و مہدی کے آنے کی آنحضرت مسل لا تم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔جس کے زمانہ میں یہ قرآنی پیشگوئیاں پوری ہونی تھیں اسے مانے کی بھی ہمیں توفیق ملی۔پھر نئے سائنسی انکشافات ہیں ان کو دیکھ کر بھی اللہ تعالیٰ کی حمد سے دل لبریز ہوتا ہے، دل بھر جاتا ہے۔چودہ سو سال پہلے یہ باتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم کے ذریعہ سے بتا دیں۔پرانی قومیں جنہوں نے نبیوں کا انکار کیا اور اس انکار کی وجہ سے ان سے جو سلوک ہوا اس پر ایک خدا کا خوف رکھنے والا ، قرآن کریم کا ترجمہ سمجھنے والا استغفار کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس حالت سے بچایا ہوا ہے اور آئندہ بھی بچائے رکھے۔تو جتنا جتنا فہم و ادراک ہوگا اتنا اتنا اللہ تعالی کی کامل کتاب پر ایمان اور یقین بڑھتا جائیگا۔اور یہی چیز ہے جو حق تلاوت ادا کرنے والی ہے۔