تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page v of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page v

پیش لفظ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر ١٠) یقینا ہم نے ہی یہ ذکر اُتارا ہے اور یقینا ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔صحف سماویہ میں قرآن مجید ہی ایک ایسا صحف ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود لی ہے۔اس آیت میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ کلام ہمیشہ زندہ رہے گا اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کی تعلیمات کو ہمیشہ تازہ رکھنے اور اس کا نفع لوگوں کو پہنچانے والے پیدا ہوتے رہیں گے۔معنوی طور پر اس کتاب کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر مسجد دین بھیجتا رہا اور آخری زمانہ میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور آپ نے قرآن کریم کے اسرار مخفیہ اور اس کے حقائق و معارف کو دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور یقیم الشریعہ کا فریضہ احسن رنگ میں سرانجام دیا۔قرآن کریم کا نہ صرف معنوی طور پر بلکہ لفظی طور پر بھی محرف اور مبدل ہونا الہی وعدوں کے مطابق محال ہے۔قرآن کریم کی حفاظت کا ایک ذریعہ کثرت سے اس کی تلاوت کرنا بھی ہے۔تلاوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ امت کے دلوں میں اس کی اہمیت جاگزین کرنے کا بیڑا بھی اللہ تعالیٰ خود اٹھاتا ہے۔