تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 35

35 کرتی رہے۔کہیں یہ نہ ہو کہ اس کو چھوڑ دے۔اور یقینا اس کیلئے آپ دعا میں بھی کرتے تھے۔اور یہ جو درجات کی بلندی کے بارے میں فرما رہے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا ہوگا اور اسی سے علم پا کر آپ نے بتایا کہ اس کے درجات کی بلندی ہوگی۔اللہ کرے کہ آپ کی اس دلی تمنا کو امت سمجھے اور بھی بے شمار مثالیں ہیں جن میں آپ نے امت کو قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی نصیحت فرمائی ہے تا کہ وہ اعلیٰ اخلاق قائم ہوسکیں۔جن کو آپ نے اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہوا تھا اور آپ چاہتے تھے کہ امت بھی ان پر عمل کرے اور قرآن کریم کی تعلیم تمام دنیا میں رائج ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اس بارہ میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن مجید وحی متلو ہے اور اس کا ہر حصہ متواتر اور قطعی ہے اور حتی کہ اس کے نقطے اور حروف بھی۔خدا تعالیٰ نے اسے ایک زبر دست اور کامل اہتمام کے ساتھ ملائکہ کے حفاظت اور پہرہ میں اتارا ہے۔پھر نبی ستی ایم نے اس بارے میں کسی قسم ا دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور ہمیشہ اس بات پر مداومت سے عمل کیا کہ اس کی آیت آپ کی آنکھوں کے سامنے اسی طرح لکھی جائے جس طرح نازل ہوتی تھی۔یہاں تک کہ آپ نے تمام قرآن کریم جمع فرما دیا اور بنفس نفیس اس کی آیات کی ترتیب قائم فرما دی۔آپ ہمیشہ نمازوں وغیرہ میں اس کی تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ اس دنیا سے رخصت ہو کر اپنے رفیق اعلیٰ اور محبوب رب العالمین سے جاملے۔“ ( ترجمه عربی عبارت ، حمامۃ البشری ، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 216) اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کو پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین خطبه جمعه ۴ / مارچ 2005ء بحوالہ خطبات مسرور جلد سوم صفحہ 127 تا 141 ایڈیشن اکتوبر 2006 ء انڈیا)