تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 98

98 لے، ہر ایک کا اپنا علم ہے اور استعداد ہے جس کے مطابق وہ سمجھ رہا ہوتا ہے جیسا کہ میں نے کہا لیکن قرآن کریم کا فہم حاصل کر کے اس کو بڑھانا بھی مومن کا کام ہے۔ایک جگہ ہی یہ تعلیم محدود نہیں ہو جاتی۔تو جتنی بھی سمجھ ہے ، بعض تو بڑے واضح احکام ہیں، سمجھنے کے بعد ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔کسی بھی اچھی بات کا یا نصیحت کا فائدہ بھی ہوسکتا ہے جب وہ نصیحت پڑھ یا سن کر اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہوگی۔کیونکہ تلاوت کا ایک مطلب پیروی اور عمل کرنا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرمایا دیا ہے کہ یہ قرآن میں نے تمہارے لئے ، ہر اس شخص کے لئے جو تمام نیکیوں اور اچھے اعمال کے معیار حاصل کرنا چاہتا ہے اس قرآن کریم میں یہ اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے لئے تمام اصول اور ضابطے مہیا کر دئے ہیں۔ہر قسم کے آدمی کے لئے ، ہر قسم کی استعداد رکھنے والے کے لئے ، اور نہ صرف یہ کہ جیسا کہ میں نے کہا کسی خاص آدمی کے لئے نہیں رکھے ہیں بلکہ ہر طبقے اور ہر معیار کے آدمی کے لئے رکھے ہیں۔اور اس میں ہر آدمی کے لئے نصیحت ہے وہ اپنی استعداد کے مطابق سمجھ لے، فرمایا { وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ } ( القمر : ۱۸) اور یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کی خاطر آسان بنادیا ہے۔پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔اب یہ ہمارے پر ہے کہ ہم اس تعلیم کو کس حد تک اپنے اوپر لاگو کرتے ہیں اور اس کی تعلیمات سے نصیحت پکڑتے ہیں۔قرآن کریم کو مہجور کی طرح نہ چھوڑیں پس آج ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس رمضان میں اس نصیحت سے پُر کلام کو، جیسا کہ ہمیں اس کے زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی توفیق مل رہی ہے، اپنی زندگیوں پر لاگو بھی کریں۔اس کے ہر حکم پر جس کے کرنے کا ہمیں حکم دیا گا ہے اس پر عمل کریں۔اور جن باتوں کی مناہی کی گئی ہے، جن باتوں سے روکا گیا ہے ان سے رکیں، ان سے بچیں اور کبھی